کاماریڈی :13؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ریاست میں اندراماں امکنہ جات کی تعمیر میں ہوئی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے ٹی آرایس حکومت کی جانب سے سی بی سی آئی ڈی کو احکامات جاری کرنے پر سی بی سی آئی ڈی کے انسپکٹر گذشتہ دو دنوں سے ضلع نظام آباد میں اپنے تحقیقات کو جاری رکھے ہوئے ہیں کل لنگم پیٹ، سداشیو نگر منڈلوں میں بنیادی سطح پر جائزہ لیتے ہوئے گذشتہ 10سالوں میں ہوئی دھاندلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہر روز حکومت کو رپورٹ پیش کررہی ہے۔ سی بی سی آئی ڈی کے انسپکٹر وینکٹیشورلو اودے کرن کے علاوہ کاماریڈی رورل سی آئی سبھاش چندربوس، محکمہ ہائوزنگ کے عہدیداروں کے ہمراہ سداشیو نگر منڈل کے بوم پلی کا دورہ کرتے ہوئے گذشتہ 10سال کے دوران امکنہ جات کی تعمیر میں ہوئی دھاندلیوں کی تحقیقات کی سداشیو نگر منڈل کے بوم پلی میں انسویا نامی خاتون نے بغیر مکان تیار کئے ہی بل حاصل کرنے اسی طرح کے مہی پال اور اس کی بیوی سجاتا کے نام پر دو الگ الگ امکنہ جات کی منظوری کراتے ہوئے ایک مکان تعمیر کرتے ہوئے 2بل علیحدہ علیحدہ طورپر حاصل کرلیا۔ لنگم پیٹ منڈل کے پولکم پیٹ میں 177 بوگس مکانات کی تعمیر کی نشاندہی کی گئی۔
پولکم پیٹ میں 177 مکانات کی منظوری عمل میں لاتے ہوئے اسے بغیر تعمیر کئے ہی عہدیدار اور سیاسی قائدین بلوں کو حاصل کرنے کا انکشاف ہوا۔ پولکم پیٹ میں بی راجماں نامی خاتون نے 1999 میں مکان کی تعمیر کی تھی لیکن عہدیدار 2006 ء میں مکان کی تعمیر انجام دیا گیا کہے کر بل ادا کیا۔اس بارے میں راجماں سے سی بی سی آئی ڈی کے عہدیدار دریافت کرنے پر بتایا کہ انہیں ایک روپیہ بھی بل نہیں دیا گیا۔ پی کشن نامی شخص کے نام پر بھی مکان تعمیر کیا گیا لیکن انہیں بل ادا نہیں کیا گیا۔ سی بی سی آئی ڈی کے عہدیداروں نے ایک دن میں تقریباً300 مکانات کی تحقیقات کرتے ہوئے مکمل تفصیلات حاصل کرتے ہوئے بوگس مکانات تعمیر کرنے کی نشاندہی کرتے ہوئے بلز کی ریکوری کیلئے حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی ۔ سداشیو نگر منڈل کے بوم پلی میں ہوئی تحقیقات میں برسراقتدار ٹی آرایس کے قائد ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہونے پر سی بی سی آئی ڈی کے عہدیداروں نے اس بارے میں حکومت کو رپورٹ پیش کی ۔ سی بی سی آئی ڈی کے انسپکٹرس اودے کمار اور وینکٹیشسورلو نے بتایا کہ ہر روز کی گئی تحقیقات کی رپورٹ حکومت کو دی جارہی ہے اور بلوں کی ریکوری کیلئے بھی سفارش کی جارہی ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کے بارے میں بھی حکومت کورپورٹ دی جارہی ہے۔