محبوب نگر /14 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع بھر میں 19 اگست کو ہونے والے جامع گھریلو سروے کے تعلق سے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شکوک و شبہات پائے جارہے ہیں ۔ جیسا کہ 19 اگست کو کیا گھر پر رہنا ضروری ہے ۔ اگر نہیں تو پھر کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا ؟ بنک کھاتوں کی تفصیلات بتائی جائیں یا نہیں ؟ وطن سے دور شہر میں رہنے والے اندراج کس مقام کا کروائیں ان تمام باتوں کو لیکر عوام میں تجسس پایا جارہا ہے ۔ دیہی مقامات سے شہروں کو منتقل ہوکر کافی محنتوں کے بعد معاشی حالات سدھار لینے والے افراد بھی تجسس کا شکار ہیں کہ آمدنی کے ذریعہ درج کروائیں یا نہیں 9 سروے فارمیٹ میں اراضی یا جائیداد کی تفصیل سچ سچ لکھوائی جائے کہ نہیں ۔ بعد میں تحقیقات میں جھوٹ ثابت ہونے پر کیا حکومت اس کو ضبط کرے گی ؟ ضلع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد خاندان روزگار کے سلسلے میں مہاراشٹرا کرناٹک وغیرہ میں مقیم ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً خاندان 19 اگست کو اپے اپنے وطن پہونچنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایک موظف عہدیدار نے مجوزہ سروے کے بارے میں بتایا کہ یہ ضروری ہے کیونکہ اس سے سرکاری فلاحی اسکیمات کو مستحقین تک پہونچانے میں کافی مدد مل سکتی ہے ۔ طلباء نے بھی سروے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کے مستقبل کو روشن بنانے میں یہ سروے معاون ہوسکتا ہے ۔ اس سروے سے ایک سے زائد راشن کارڈ یا شناختی کارڈز کی بہ آسانی شناخت ہوسکتی ہے ۔ ایک گھر میں باورچی خانوں کی تعداد جتنی ہے سروے میں اتنے ہی خاندانوں کو شمار کئے جانے کی اطلاع سے بھی عوام میں تشویش پیدا ہو رہی ہے ۔ دوسری طرف ضلع انتظامیہ کیلئے سروے کیلئے عملہ کی قلت درد سر بنی ہوئی ہے کیونکہ ضلع میں حقیقی خانداونں کی تعداد کا علم ضلع انتظامیہ کو بھی نہیں ہے ۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ ضلع میں اندازاً 10 لاکھ خاندان ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر گدوال شہر میں چند روز قبل 12048 خاندانوں کا اندراج کیا گیا تھا جبکہ حالیہ ضمنی سروے میں یہی تعداد 16927 تک پہونچ چکی ہے ۔ ضلع میں سروے کیلئے 40 ہزار ایمونیٹرس درکار ہیں ۔ ملازمین سرکار کے ساتھ ساتھ ایل آئی سی اور بنک ملازمین کی خدمات بھی لی جارہی ہے ۔ ایک ا طلاع یہ بھی ہے کہ بعض مقامات پر ڈاکٹرز اور انجینئیرس کی خدمات بھی لی جارہی ہے ۔ بلدی علاقوں میں ایمونیٹرس کی خدمات کیلئے 80 کنٹراکٹ لکچررس کو مامور کیا گیا ہے ۔ اس طرح خانگی مدارس او رکالجس کے اسٹاف کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہے ۔ سروے کے انعقاد کیلئے حکومت نے ضلع کیلئے دو کروڑ روپئے منظور کئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ضلع کے 64 منڈلس اور 9 میونسپالٹیز کیلئے یہ فنڈ ناکافی ہے ۔ سروے میں پولٹری فارم مالکین کیلئے ضروری ہے کہ وہ فارم میں موجود مرغیوں کی تعداد اور مویشیاں جیسے بھینس ، بکری اور گائے کی تعداد بھی درج کروائںے ۔ ضلع انتظانیہ نے عوام سے 18 اگست تک اپنے اپنے مکانات پر پہونچ جانے کی ہدایت دی ہے ۔ 19 اگست کو آر ٹی سی بسوں کی منسوخی کا قوی امکان ہے ۔ ضلع انتظامیہ اس سروے کیلئے زبردست تشہیر کے بلند بانگ دعوی کر رہا ہے لیکن ایسا کہیں بھی نہیں دیکھا گیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تو دیا ہے لیکن مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی اردو کہیں بھی دیکھی نہیں جارہی ہے ۔ بیانرس ، پوسٹرس ، پمفلٹس میں دور دور تک اردو تحریر ندارد حتی کہ ضلع انتظامیہ نے اردو تنظیموں سے بھی اس ضمن میں ربط پیدا نہیں کیا ہے ۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے قائدین کا دعوی ہے کہ اتنے بڑے سروے کا ایک دن میں مکمل ہونا ممکن نہیں ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 19 اگست کا سروے کس حد تک کامیاب ہوتا ہے ۔