نئی دہلی۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) یو پی اے کے دورِ حکومت کے دوران تقرر کردہ گورنروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنے والے مرکز نے اِن گورنروں کو بہرحال ہٹادینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو گورنرس مرکز کی ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے استعفیٰ دینے سے انکار کررہے ہیں، اس پر چراغ پا ہوتے ہوئے مرکز نے فیصلہ کیا ہے کہ جو گورنرس مستعفی ہونا نہیں چاہتے، انہیں ہٹا دیا جائے گا۔ چھتیس گڑھ کے گورنر شیکھر دت جنہیں 2010ء میں مقرر کیا گیا تھا، اپنے عہدہ سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ مرکزی معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے گورنروں کو ازخود استعفیٰ دینے کی ہدایت دی تھی۔ جو گورنرس سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور سابق حکومت کے تقرر کردہ ہیں، انہیں موجودہ حکومت ہٹانا چاہتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ حکومت کا اصل مسئلہ اُن گورنروں سے ہے، جن کا سیاسی پس منظر سابق یو پی اے حکومت سے وابستہ ہے۔
قبل ازیں یو پی اے کے مقرر کردہ 6 گورنرس کی تبدیلی پر بی جے پی قائد مختار عباس نقوی نے کانگریس پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ اِس مسئلہ کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دستوری عہدوں کے بارے میں سیاست نہیں کھیلی جانی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس قسم کی باتوں کیلئے ایک مناسب طریقہ کار موجود ہے اور اِسی کے مطابق اقدامات کئے جانے چاہئے۔ قبل ازیں کانگریس قائد پی ایل پونیا نے بھی کہا تھا کہ گورنر کا عہدہ اہم دستوری عہدہ ہے اور اُنھیں اُن کی میعاد مکمل کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ کام انجام دینے کا دستوری طریقہ نہیں ہے۔ گورنرس کو استعفیٰ دینے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ گورنر چھتیس گڑھ شیکھر دت آج قبل ازیں اپنے عہدہ سے مستعفی ہوگئے ہیں جبکہ گورنر یوپی بی ایل جوشی اور گورنر کرناٹک ایچ آر بھردواج نے منگل کے دن استعفیٰ دیا تھا۔ گورنر آسام جے بی پٹنائک نے آج اُن کے استعفیٰ دینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہاکہ اِس مسئلہ پر مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے دوران کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔