گورنرس پر استعفیٰ کیلئے مرکز کا دباؤ بے اثر

نئی دہلی ؍ ممبئی ۔ 18 جون( سیاست ڈاٹ کام ) گورنر مہاراشٹرا کے شنکر نارائنن ایسا لگتا ہے کہ مرکز کے خلاف محاذ آرائی کیلئے تیار ہیںاور انھوں نے عہدہ چھوڑنے مرکز کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا جبکہ دیگر ریاستوں میں بھی اُن کے ہم منصبوں نے مزاحمت شروع کردی ہے ۔ مرکزی معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے دو دن قبل یو پی اے دور حکومت میں مقرر کردہ بعض گورنرس سے خواہش کی تھی کہ وہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے پیش نظر مستعفی ہوجائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان گورنرس کو استعفیٰ دینے کیلئے دباؤ بڑھایا جارہا ہے لیکن اب تک کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا ہے۔ گورنر مغربی بنگال ایم کے نارائنن نے آج کہا کہ انھوں نے اب تک استعفیٰ نہیں دیا ہے ۔ شنکر نارائنن نے کہاکہ وہ اُسی وقت استعفیٰ کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جب کوئی موزوں فیصلہ ساز اتھاریٹی اُنھیں ایسا کرنے کیلئے کہے۔ انھو ںنے کہا کہ مرکزی معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے گزشتہ ہفتے دو مرتبہ اُن سے ربط قائم کیا اور عہدہ چھوڑنے کیلئے کہا ۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس کا جواب نہیں دیں گے ۔ گورنر کا عہدہ ایک دستوری عہدہ ہے اور وہ صدرجمہوریہ کے نمائندہ ہیں ۔ صدرجمہوریہ نے اُن کا تقرر کیا ہے ۔ اب تک کسی ذمہ دار شخص نے اُن سے عہدہ چھوڑنے کیلئے نہیں کہا ۔ انھوں نے کہا کہ گورنر کے عہدہ میں کوئی خلاء نہیں پایا جاتا ۔ جمہوریت میں کوئی عہدہ مستقل نہیں ہوتا ، اگر کوئی موزوں فیصلہ ساز اتھاریٹی انھیں عہدہ چھوڑنے کیلئے کہے تو وہ یقینا اس پر غور کریں گے ۔ 82 سالہ شنکر نارائنن 22 جنوری 2010 ء سے گورنر مہاراشٹرا کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ انھوں نے 7 مئی 2012 ء کو دوسری مرتبہ ریاست کے گورنر کی حیثیت سے اُس وقت حلف لیا جب صدرجمہوریہ نے انھیں مزید پانچ سال اس عہدہ پر برقرار رہنے کی منظوری دی ۔ اس دوران گورنر کرناٹک ایچ آر بھردواج نے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور استعفیٰ کے بارے میں جاری ہلچل پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر ناگالینڈ اشونی کمار عنقریب مستعفی ہوجائیں گے۔