گوتم ریڈی ، تجربہ کارسیاست داں کے خدمت گذار فرزند

نرمل /19 جنوری ( جلیل ازہر کی رپورٹ ) سیاسی میدان یا فلمی دنیا میں ڈاکٹر ہو یا تجارت اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لیڈر کا بیٹا لیڈر ، فلمی ایکٹر کا بیٹا فلمی ایکٹر تاجر کا لڑکا تاجر ، ڈاکٹر کا لڑکا ڈاکٹر جبکہ گاندھی خاندان سے لیکر اضلاع کے حالات پر بھی نظر ڈالیں تو اکثریت واضح نظر آتی ہے ۔ ملائم سنگھ کے فرزند اکیلش کمار ہو کہ فاروق عبداللہ کے فرزند ہوکہ ریاستی وزیر اعلی کے چندرا شیکھر ارؤ کے فرزند راما راؤ اور اور ان کی دختر محترمہ کویتا رکن پارلیمنٹ نظام آباد ہو یا فلمی دنیا امیتابھ کے فرزند سے لیکر فیروزگار ، دھرمندر وغیرہ کے فرزند بلکہ ملک کے ہر شعبہ میں باپ اور بیٹے کے مثالوں کو قلمبند کیا جائے تو اخبار کے صفحات ناکافی ہوں گے ۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نسل نو اپنے بزرگوں کے پیشہ کو ہی اختیار کرتی آئی ہیں ۔ یہاں یہ تذکرہ اس لئے کیا جارہا ہے کہ نرمل کی نمائندگی کرنے والے اے اندرا کرن ریڈی جو اس وقت ریاستی وزیر امکنہ و انڈومنٹ کے علاوہ قانون کا قلمدان بھی رکھتے ہیں ایک تجربہ کار سیاست دان ہی نہیں وہ سابق میں رکن پارلیمنٹ اور ضلع پریشد کے صدرنشین جیسے اہم عہدوں پر اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعہ نرمل سے تین مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ۔ ان کے ہونہار فرزند مسٹر اے گوتم ریڈی جو اپنے والد کی ہر انتخابی مہم میں کامیابی کیلٹئے ہمیشہ اہم کردار نبھاتے رہے ۔ اب چند دنوں سے والاد کے ہمراہ شانہ بہ شانہ عوام کی خدمت کے جذبے کو لیکر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں ۔ مسٹر گوتم ریڈی کا حسن سلوک اور ان کی سادگی کی وجہ یوتھ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے جبکہ ان کے والد مسٹر اے اندرا کرن ریڈی تمام طبقات میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں اور عوام کی ہر مشکل گھڑی میں فوری اپنے وطن عزیز پہونچ جاتے ہیں جبکہ اسی طرز پر مسٹر اے گوتم ریڈی بھی عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے بلکہ حلقہ اسمبلی نرمل کی مثالی ترقی کے خاطر اپنے والد کو تجاویز پیش کرتے ہوئے عوامی خدمت میں مصروف ہوگئے ہیں ۔ مسٹر اے اندرا کرن ریڈی کی تربیت کا ثمر ہے کہ مسٹر گوتم میں بھی عوامی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ ان کی شب و روز عوام سے تربیت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام طبقات کیلئے امید کی کرن بن گئے ۔ ایسے جذباتی نوجوان کو آگے لانے کیلئے پارٹی ہائی کمان بلکہ وزیر اعلی مسٹر کے سی آر کو چاہئے کہ ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ پارٹی کو نوجوانوں میں اور بھی مستحکم بنانے کیلئے انہیں ٹی آر ایس یوتھ کے اہم عہدہد پر فائز کریں ۔ یقیناً گوتم ریڈی کی نامزدگی اپنے یوتھ میں ایک نیا جوش و ولولہ آئے گا بلکہ گوتم ریڈی سیاسی نقشہ پر اپنی پہچان بنائیں گے ۔