گریجنوں کیلئے علحدہ یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ

27جولائی کو چلو ورنگل پروگرام ، تلگودیشم قائد وائی نروتم کی پریس کانفرنس
ظہیرآباد۔/26 جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدر تلگودیشم ضلع سنگاریڈی وانچارج حلقہ اسمبلی ظہیرآباد وائی نروتم نے آج یہاں پارٹی آفس میں طلب کردہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ریاستی تلگودیشم پارٹی کی جانب سے گریجنوں کے لئے علحدہ یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے 27جولائی کو چلو مولگو ( ورنگل ) پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جن میں ریاست گریجنوں کے بشمول عوام کی کثیر تعداد شرکت کرے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں مرکزی حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ تنظیم نو قانون کے تحت نو تشکیل کردہ ریاست میں اسٹیل پلانٹ، گریجن یونیورسٹی، ریلوے کوچ فیکٹری، ہارٹیکلچرل یونیورسٹی اور آئی ٹی آئی آر کے قیام کا وعدہ کیا تھا لیکن صد افسوس کہ چار سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود نہ تو مرکزی حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدگی دکھائی اور نہ ہی ریاستی حکومت نے اس ضمن میں مرکزی حکومت پر زور دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو شرمندہ تعبیر کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے بھی یاد دلایا کہ 2014 میں گریجنوں کے لئے علحدہ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں ضلع ورنگل کے مولگو مقام کی نشاندہی کی گئی تھی اور اس ضمن میں 1200 کروڑ روپئے بھی منظور کئے گئے تھے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود محض ریاستی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث گریجن یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا نہ جاسکا۔ اگر عمل میں لایا جاتا تو ریاست تلنگانہ کو ملک بھر میں دوسرا مقام حاصل ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ مولگو میں گریجن یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں تلگودیشم پارٹی نے گزشتہ 22 جولائی کو ریاستی گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے ایک یادداشت پیش کی تھی جس میں ریاستی حکومت کو اس جانب متوجہ کرانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آندھرا پردیش مرکزی حکومت کی جانب سے 2014 میں آندھرا پردیش کے لئے کئے گئے وعدوں کو پورا کرانے کے لئے مرکز میں احتجاجی مظاہرے کررہی ہے جبکہ ریاست تلنگانہ کیلئے مرکز کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرانے میں ریاستی حکومت کی خاموشی معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے آخر میں 27جولائی کے چلو مولگو پروگرام کو کامیاب بنانے کی ریاست خاص کر ضلع سنگاریڈی کے عوام سے پرزور اپیل کی ہے۔ اس موقع پر دیگر سرکردہ قائدین موہن ریڈی، کرشنیا، شنکر، نرسلو گوڑ، محمد یوسف، محمد شریف، سری کانت اور دوسرے موجود تھے۔