شراب خانے کا قیام وقف بورڈ خواب غفلت میں، برسراقتدار پارٹی کے قائدین کی چاندی
سدی پیٹ۔/17 جولائی، ( کلیم الرحمن کی رپورٹ ) متحدہ آندھرا پردیش سے تلنگانہ ریاست کی علحدگی کے بعد متعدد وقف اراضیات پر ناجائز قبضہ جات کی کئی اطلاعات منظر عام پر آرہے ہیں جس کی ایک مثال گجویل میں قائم 12ایکر اراضی بھی ناجائز قبضہ جات کا شکار ہوئی ہے۔ یوں تو مختلف سروے کی وقف اراضی پر مسلم و غیر مسلم ہاتھوں میں ہے بتایا جاتا ہے کہ یہاں 12ایکر اراضی میں سے تقریباً 2 گنٹے اراضی برسراقتدار جماعت کے لیڈر اور انہیں کی اہلیہ معاون رکن بلدیہ کے نام بیع نامہ کردیا گیا ۔ اس بات کے انکشاف کے بعد بھی وقف بورڈ ابھی تک خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوا اور برائے نام نوٹس روانہ کرکے اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کردیا اور خلاف قانون کی بات یہ ہے کہ سرکاری سفارش پر یہاں ایک شراب خانہ قائم کردیا گیا جو مسجد و گیارہ شہیدان درگاہ کے بالکل قریب ہے۔ وقف اراضیات چونکہ وقف بورڈ کے تحت قائم ہیں اور یہ ملت کی امانت ہیں لیکن بعض مسلم افراد نے مبینہ طور پر قبضہ کرکے اس کو تباہ کردیا ہے ۔ شراب خانہ جو معاون رکن بلدیہ خاتون نے 12 ملگیات تعمیر کرکے شراب خانہ کو کرایہ پر دیا ہے اس سے راہگیر پریشان حال ہیں، شریف افراد کا اس شاہراہ سے گزرنا محال ہوگیا ہے۔ زائرین و عقیدت مندوں کی آمدورفت ہوتی رہتی ہے جبکہ مصلیان بھی کثیر تعداد میں ہیں لیکن اس شراب خانہ کے باعث عقیدتمندوں اور مصلیوں میں اس بات کا خوف ہے کہ کبھی بھی کسی وقت شرابی ان کے راستہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں ان تمام باتوں کی پرواہ کئے بغیر مسلم خاتون اور ان کے شوہر نے جو کارستانی انجام دی ہے اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی خدا کے عذاب سے ناواقف ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ قائم کرنے کے بعد اس بات کی قوی امید تھی کہ حکومت مسلمانوں کی وقف اراضیات کے تحفظ میں آگے آگے رہے گی لیکن گجویل میں صورت حال کچھ عجیب سی ہے۔ وقف بورڈ کو چاہیئے کہ وہ اپنی خواب بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر مسلمانوں کی امانت وقف اراضی کا تحفظ کرنے کیلئے پہل کریں اور مسلمانوں میں پائے جانے والی تشویش کا ازالہ کریں۔ گجویل کے مسلمانوں نے وقف بورڈ کے صدر نشین الحاج محمد سلیم کے علاوہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی سے خواہش کی کہ وہ وقف اراضیات کے تحفظ کے لئے فوری اثر کے ساتھ اقدامات کا آغاز کریں اور ملت کے اہم ترین اثاثہ پر توجہ دیں۔ یہاں اس بات کا ذکر بیجا نہ ہوگا کہ گجویل حلقہ اسمبلی کی نمائندگی وزیر اعلی جناب کے چندر شیکھر راؤ ہی کرتے ہیں چونکہ چیف منسٹر مسلمانوں کے ہمدرد ہیں ان سے بھی توقع ہے کہ وہ اپنے حلقہ کے تحت قائم وقف اراضیات کے تحفظ پر بھرپور توجہ دیں گے اور اپنی ہی پارٹی ٹی آر ایس سے وابستہ قائد اور ان کی اہلیہ معاون رکن بلدیہ کی اس طرح کی حرکت پر پارٹی ان کے خلاف تادیبی کارروائی کریں گے۔