نئی دہلی 6 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز کی نریندر مودی حکومت نے آج گورنر گجرات کملا بینی وال کا تبادلہ کردیا ہے اور اب انہیں مابقی معیاد کیلئے میزورم کی گورنر بنادیا گیا ہے ۔ کملا بینی وال کے نریندر مودی کے ساتھ اچھے روابط نہیں رہے جب وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے ۔ مرکز نے آج کچھ گورنرس کا رد و بدل کیا ہے ۔ 87 سالہ کملا بینی وال کی معیاد جاریہ سال نومبر میں ختم ہونے والی ہے اور لوک آیوکت کے تقرر اور کچھ قوانین کے تعلق سے ان کے روابط نریندر مودی کے ساتھ اچھے نہیں رہے تھے ۔
وہ وی پرشوتمن کی بجائے اب میزوروم کی گورنر ہونگی ۔ راجستھان کی گورنر مارگریٹ الوا کو گجرات کی زائد ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ ٹھیک ایک ماہ بعد مارگریٹ الوا کی معیاد بھی مکمل ہونے والی ہے ۔ مودی کے ساتھ اپنے تصادم میں بینی وال نے ریٹائرڈ جسٹس آر اے مہتا کو گجرات کا لوک آیوکت مقرر کیا تھا اور اس کے خلاف حکومت گجرات ہائیکورٹ سے اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی تھی ۔ عدالت نے اس تقرر کو درست قرار دیا تھا ۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ جسٹس مہتا نے یہ عہدہ نہیں سنھالا اور مودی حکومت نے ایک نئے تقرر کا اعلان کردیا تھا ۔ کملا بینی وال نے ریاستی اسمبلی کے منظورہ ایک قانون کو بھی منظوری نہیں دی تھی
جس کے تحت مجالس مقامی میں خواتین کو پچاس فیصد تحفظات فراہم کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی تھی ۔ ان تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے راشٹرپ تی ھبون سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گورنر گجرات کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں گورنر میزوروم مقرر کیا گیا ہے ۔ پرشوتمن کو میزوروم کی بجائے مابقی معیاد کیلئے ناگالینڈ کا گورنر مقرر کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ وہ مسٹر پرشوتمن تریپورہ کے گورنر کی اضافی ذمہ داری نبھائیں گے ۔ راجستھان کی گورنر مارگریٹ الوا گجرات کی اضافی ذمہ داری نبھائیں گے ۔ پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ کے کل سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس سے قبل نئے گورنرس کا تقرر عمل میں لائیگی ۔