ممبئی۔ 26 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں شیوسینا اور بی جے پی اگر متحدہ طور پر مقابلہ کرتے تو 200 سے زائد نشستوں پر کامیابی ملتی۔ شیوسینا کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے آج یہ بات کہی۔ انہوں نے شیوسینا کے ترجمان ’’سامنا‘‘ میں ہفتہ وار کالم میں لکھا کہ رائے دہندگان نے دونوں جماعتوں کو ایسے حالات پر لا کھڑا کیا جہاں انہیں آئندہ حکومت تشکیل دینے کے لئے متحد ہونا چاہئے۔ سنجے راوت ’’سامنا‘‘ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر بھی ہیں۔ انہوں نے آج کے ایڈیشن میں لکھا کہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے نتائج نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ریاست میں گجراتی برادری نے شیوسینا کے خلاف ووٹ دیا ہے اور وہ وزیراعظم نریندر مودی کے حق میں ہیں۔ اگرچہ گجراتی عوام طویل عرصہ سے مہاراشٹرا میں قیام پذیر ہیں، پھر بھی انہوں نے نریندر مودی اور امیت شاہ کی تائید کی ہے کیونکہ ان دونوں کا تعلق گجرات سے ہے۔ انہوں نے شیوسینا سربراہ آنجہانی بالا صاحب ٹھاکرے کی ہندوتوا مسئلہ پر ان کی تائید و حمایت کو فراموش کردیا۔
اس کے ساتھ ساتھ سنجے راوت نے فوری یہ بھی صراحت کی ہے کہ انتخابی نتائج کے جلد تجزیہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیوسینا نے مخالف گجراتی موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے سینئر لیڈرس سبھاش دیسائی، ونود گھوسلکر، پانڈو رنگ سپکال کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گجراتی عوام نے شیوسینا کے خلاف ووٹ دیا۔ انہوں نے لکھا کہ شیوسینا قائدین کے اچھے کاموں کے باوجود آخر انہیں شکست کیوں ہوئی۔ مہاراشٹرا نے ایک بار پھر نریندر مودی کے نام پر ووٹ دیا اور بی جے پی کو کامیابی ملی۔ علیحدہ ریاست ودربھا کو بی جے پی کی تائید اور ان قیاس آرائیوں کے دوران کہ مودی حکومت ممبئی کی اہمیت کو کم کرنے کی خواہاں ہے، راوت نے استفسار کیا کہ ان نتائج سے مہاراشٹرا کو کیا ملا۔ متحدہ مہاراشٹرا اور ممبئی کے موقف کے بارے میں غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شیوسینا کے 17 امیدواروں کو 49 تا 1500 ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی۔ وہ دولت اور طاقت کے غلط استعمال کا شکار ہوئے۔ اگر وہ منتخب ہوجاتے تو شیوسینا ارکان کی تعداد 80 سے زائد ہوتی۔ ممبئی، تھانے اور پونے پٹی پر شیوسینا کے ووٹ ایم این ایس نے حاصل کرلئے۔ اس کا فائدہ کلیان ، دومبی والی اور پونے میں بی جے پی کو ہوا۔