نظام آباد 16 فروری (پریس نوٹ ) قاضی سید ارشد پاشاہ سروری ترجمان تلنگانہ اسٹیٹ کانگریس پارٹی نے اس بات کا ادعا کیا کہ کانگریس ریاست میں ایک اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے اپنے فرائض کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں لیکن ریاست میں برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت کی من مانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کا انداز حکمرانی ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے اور کہا کہ پچھلے عرصہ میں ریاست حیدرآباد کے نظام شاہی دور حکومت کی کے سی آر نے متعدد بار ستائش کرتے ہوئے نظام کے دور میں گنگا جمی تہذیب کے فروغ ‘ ہندو مسلم یکجہتی‘ تعلیمی‘زرعی شعبوں کا ریاست حیدرآباد جنوبی ہند کے تمام ریاستوں میں ایک مثال ریاست کی حیثیت سے انہوں نے خراج عقیدت پیش کیا تھا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کے سی آر اپنے قول و فعل کی نفی کررہے ہیں۔ نظام کے دور میں سکریٹریٹ‘چیسٹ ہاسپٹل اور دیگر عظیم الشان عمارات تعمیر کی گئی تھیں۔ لیکن اب واستو کے نام پر کے سی آر سہولت بخش سکریٹریٹ کی عظیم الشان عمارت کو بیکار قراردیتے ہوئے ایک نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا منصوبہ تیارکررہے ہیں اس طرح چیسٹ ہاسپٹل کی بھی منتقلی کی جانے والی ہے ۔ قاضی سید ارشد پاشاہ نے کہا کہ اگر چیف منسٹر اپنے عقیدے اور مرضی کے مطابق ایسے اقدامات کریں تو نئی ریاست تلنگانہ رفتہ رفتہ ایک کنگال ریاست میں تبدیل ہوجائے گی۔عوام کے مفادات میں یہ ضروری ہے کہ ایسے غیر ضروری منصوبوں پر عوام کا قیمتی سرمایہ برباد نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سکریٹریٹ کی منتقلی کے کے سی آر فیصلہ کے خلاف کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام گاندھی بھون تا راج بھون صدر ٹی پی سی سی پنالہ لکشمیا کی قیادت میں نکالی گئی ریالی کو پولیس کی جانب سے روک دیا جانا انتہائی معیوب اور غیر جمہوری طرز عمل ہے یہںا تک کہ پولیس نے ریالی کو روکنے کیلئے جارحانہ تیور کے قائدین اور کارکنوں کو روک دیا جس کے دوران پونالہ لکشمیا صدر کانگریس زخمی ہوگئے ۔ ٹی آر ایس کے اقتدار میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ روا رکھے جارہے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاصی سید ارشد پاشاہ نے کہا کہ آسرا پنشن کے نام پر 19 اگست سے آج تک سروے اور جانچ پڑتال کے نام پر غریب عوام کو پریشان کیا جارہا ہے اس طرح دیگر اسکیمات کی عمل آوری سے کہںی زیادہ ٹی آر ایس حکومت اپنی پبلیسٹی کررہی ہے جو یقینی طور پر بے فیض ثابت ہوگی۔