کیمیائی پانی سے زراعت کو نقصان

گلبرگہ21اپریل( سیاست ڈسٹرکٹ نویز ) : تعلقہ الند کے گنے کے کاشت کاروں نے این ایس ایل شوگر لمیٹیڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شکر کارخانہ کے کیمییائی باقیات امرجا پراجکٹ کی لفٹ بینک کنال میں چھوڑ رہی ہے ۔ جو ایک غیر قانونی عمل ہے ۔ یہ آلودگی بھسنور گائوں تعلقہ الند ضلع گلبرگہ کے امرجا پراجکٹ کے پانی میں شامل ہورہی ہے۔ گنا کاشت کاروں کے نمائیندہ بی ایس ساہو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بالاگندہ کیمیائی پانی کسانوں کے کھیتوں میں بھی داخل ہورہا ہے۔ این ایس ایل شوگر لمیٹیڈ پرالزام عائد کرتے ہوئے بی ایس ساہو نے کہا کہ این ایس ایل شوگرس جو الند کو آپریٹیو شکر کارخانہ کرایہ پر لے کر چلا رہی ہے اس نے اپنے وعدہ کے مطابق گنا کاشتکاروں کی واجب الادا رقومات اب تک اب تک ادا نہیںکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں نے این ایس ایل شوگرس کو جو گنا فروخت کیا تھا اس کے 95 کروؔڑ روپئے واجب الادا ہیں ۔ اس رقم کی عدم وصولی کے سبب کسان بینکوں اور کو آپریٹیو سوسائیٹیوںکے قرضہ جات ادا کرنے کے لئے خانگی فینانس کمپنیوںسے بھاری بھرکم سود کی بنیاد پر قرضے لینے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں ۔اس دوران چیف انجنئیر گلبرگہ اریگیشن پروجیکٹ زون نے ایک صحافتی بیان میںکہا ہے کہ امرجا پراجکٹ کی ایک نہر میںشکر کارخانہ کا آلودہ پانی چھوڑنے کے ضمن میں این ایس ایل شوگر لمیٹیڈ کو ایکنوٹس جاری کردی گئی ہے۔ غیر قانونی طور پر فیکٹری کا آلودہ پانی اور کیمیائی مرکبات نہر میںچھوڑنے پر این ایس ایل شوگر لمیٹیڈ کے خلاف پولیس اسٹیشن میںبھی شکایت درج کروادی گئی ہے۔