کیرانا کے متوفی رکن لوک سبھا کی دختر بی جے پی ٹکٹ کی دعویدار

غالب مسلم آبادی والے علاقہ میں ہندوؤں کا انخلائ‘ مریگانکاسنگھ کی شکایت

n حلقہ لوک سبھا کیرانا اور حلقہ اسمبلی تورپور میں 28مئی کو رائے دہی
n بی جے پی حالیہ شکست کے صدمہ سے باہر نکلنا چاہتی ہے
n ایس پی ‘ بی ایس پی اتحاد ایک اور اہم کامیابی کی خواہاں

لکھنو۔2مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش کے حلقہ لوک سبھا کیرانا کے بی جے پی رکن حکم سنگھ کے انتقال کے سبب مخلوعہ نشست پر 28مئی کو ضمنی انتخابات ہوں گے ۔ جہاں ان کی دختر میرگانکاسنگھ اپنے والد کی وراثت حاصل کرتے ہوئے لوک سبھا میں داخل ہونا چاہتی ہیں ۔ بی جے پی نے اگرچہ انہیں تاحال امیدوار نامزد نہیں کی ہے لیکن مریگانکا سپور پُرامید ہیں ۔ حلقہ اسمبلی نور پور میں بھی اسی روز ضمنی انتخابات ہوں گے ‘ یہ نشست بی جے پی رکن اسمبلی لوکیندر سنگھ چوپلی کے انتقال کے سبب مخلوعہ ہوئی ہے ۔ 57سالہ مریگانگا نے کہا کہ ’’ میرے والد کا زائد از 40سال سے اس حلقہ سے گہرا تعلق رہا ہے ۔ کیرانا ان کا آبائی مقام ہے اور اس سے ان کا دیرینہ تعلق ہے ‘‘ ۔ مریگانکانے مزید کہا کہ ’’ میں بھی کیرانا میں ایک عرصہ گزار چکی ہوں اور میرے والد کی وراثت جاری رکھنا چاہتی ہوں ‘‘ ۔ منتخب ہونے کے 2014ء میں لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے ۔ لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کے یہ دونوں ضمنی انتخآبات حکمراں بی جے پی کیلئے کلیدی اہمیت کے حامل سمجھے جارہے ہیں ۔ اکثر یہ سمجھا جارہا ہے کہ ان ضمنی انتخابات کے نتائج 2019ء کے عام انتخابات کے رجحان کا تعین کریں گے ۔ 2014ء میں بی جے کے حکم سنگھ نے حلقہ لوک سبھا کیرانا سے 5,65,909 ووٹ حاصل کرتے ہوئے ایس پی امیدوار ناہید حسن کو شکست دی تھی ۔ ناہید حسن کو 3,29,081 ووٹ حاصل ہوئے تھے لیکن 2017ء کے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں ایس پی کی ناہید حسن کے ہاتھوں بی جے پی امیدوار مریگانکا سنگھ کو 21,162 ووٹوں سے شکست ہوگئیتھی ۔ کیرانا میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے ۔ مریگانکا کے والد آنجہانی حکم سنگھ نے قبل ازیں ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ کیرانا سے ہندو خانداونں کا بڑے پیمانے پر انخلاء ہورہا ہے ۔ تاہم بعد میں انہوں نے یہ بیان واپسلے لیا تھا لیکن ان کی دختر اب یہ دعویٰ کررہی ہیں کہ خوف و ہراسانی کے سبب سینکڑوں ہندو خاندانوں کا انخلاء ہوا ہے ۔ بی جے پی ان دونوں حلقوں میں کامیابی کے ذریعہ لوک سبھا حلقہ گورکھپور اور اسمبلی حلقہ پھولپور کے حالیہ ضمنی انتخابات میں اپی شکست کے صدمے سے باہر نکلنا چاہتی ہے لیکن ایس پی ‘ بی ایس پی ‘ کانگریس اور آر ایل ڈی اپنے اتحاد کے ذریعہ بی جے پی کو ایک اور شکست دینا چاہتے ہیں ۔