ہندو دیوتا کو مسلم قرار دینے بکل نواب کے ریمارک پر شنکر آچاریہ کا ردعمل
متھرا ۔25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شنکر آچاریہ ادھوک شجانند دیو نے لارڈ ہنومان کے بارے میں بی جے پی سے اس کے قائدین کی طرف سے کئے گئے ریمارکس کے بارے میں وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اترپردیش کے وزیر مذہبی اُمور لکشمی نارائنا چودھری نے لارڈ ہنومان کو جاٹ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کسی ناانصافی کو جاٹوں نے کبھی برداشت نہیں کیا تھا۔ اترپردیش کے اس وزیر نے یہ ریمارک اُس وقت کیا تھا جب ان سے پہلے قانون ساز کونسل کے ایک بی جے پی رکن بکل نواب نے لارڈ ہنومان کو اس بنیاد پر ایک مسلمان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ لارڈ ہنومان کا نام بھی رحمن، ارمان اور قربان جیسے اسلامی ناموں جیسا ہے۔ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے راجستھان میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ ہنومان کو دلت قرار دیا تھا۔ شنکر آچاریہ نے کہاکہ ’بی جے پی ایک طرف وقفہ وقفہ سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ اُٹھاتی ہے تو دوسری طرف اس کے قائدین ہندو دیوی، دیوتاؤں کے بارے میں واہیات ریمارکس کرتے ہوئے مذہبی جذبات کو مجروح کیا کرتے ہیں‘۔ شنکر آچاریہ نے کہاکہ ’ایودھیا کا رام مندر لارڈ ہنومان کے بغیر نامکمل رہے گا کیوں کہ خود لارڈ رام نے ہنومان جی کی ستائش کی تھی اور اُنھیں اپنے بھائی بھرت کے مماثل و مساوی قرار دیا تھا‘۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر نواب کے ریمارک کو بی جے پی ہائی کمان کی منظوری حاصل ہے تو اب اس پارٹی کو لارڈ ہنومان کے لئے ایک ’مسجد تعمیر‘ کروانا ہوگا۔ شنکر آچاریہ نے کہاکہ اترپردیش کے چیف منسٹر نے لارڈ ہنومان کو دلت قرار دیتے ہوئے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے حتیٰ کہ چیف منسٹر کے دفتر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا بیان مسخ کرکے پیش کیا گیا تھا۔