ایڈیلیڈ ۔ 11 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) رواں ورلڈ کپ کے بعد مصباح الحق اور شاہد آفریدی نے ونڈے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کررکھا ہے اس پس منظر میں ٹیم کے سینیئر کھلاڑی یونس خان کپتانی کی پیشکش کو اب ٹھکرانے کے موڈ میں نہیں ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں ماضی میں وہ کپتانی چھوڑنے کی غلطی متعدد بار کرچکے ہیں۔’’میں نے زندگی میں بہت غلطیاں کی ہیں۔ پاکستان کی کپتانی بڑے اعزاز کی بات ہے۔ بہت اچھا لگتا ہے جب آپ کپتان ہوں اور سینیئر بیٹسمین کی حیثیت سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہوں اور ٹیم کو بلندی کی طرف لے جائیں۔ میری بڑی خواہش ہے کہ جب میں کرکٹ چھوڑوں تو یہ ٹیم اچھی پوزیشن میں ہو نہ کہ تگ ودو کر رہی ہو۔ مجھے جب بھی موقع ملا میں ملک کیلئے کمربستہ رہوں گا‘‘۔تاہم یونس خان کپتانی کے سہارے کے بجائے اپنی پرفارمنس کے ذریعے کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’میں نے متعدد بار پاکستانی ٹیم کی کپتانی چھوڑی ہے حالانکہ جب آپ کپتان ہوتے ہیں تو آپ کو طویل عرصہ کھیلنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے کھیلوں‘‘۔ یونس خان یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ اس عالمی کپ میں اوپنر کی حیثیت سے ان کا کھیلنا اپنے کریئر کو داؤ پر لگانے کے مترادف تھا۔’’میں نے اپنی کرکٹ کشتیاں جلا کر کھیلی ہے۔ میں مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہوں اسی لیے مجھے کامیابیاں ملی ہیں۔ میں ہر وہ قدم اٹھاتا ہوں جس میں ٹیم اور ملک کا مفاد ہو‘‘۔