ششی تھرور … ہندو پاکستان پر بی جے پی چراغ پا
ہجومی تشدد کے مجرمین کی گلپوشی
رشیدالدین
گلاس کو پارا چڑھادو تو آئینہ بن جاتا ہے اور کسی کو آئینہ دکھاؤ تو اس کا پارا چڑھ جاتا ہے۔ ان دنوں بی جے پی قائدین کا پارا اس لئے بھی چڑھا ہوا ہے کیونکہ ششی تھرور نے انہیں آئینہ دکھادیا۔ ششی تھرور کا شمار ملک کے نامور دانشوروں میں ہوتا ہے اور ان کی باتوں کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھنا بی جے پی کے بس کی بات نہیں۔ ششی تھرور نے وہی بات کہی جو آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کا خفیہ ایجنڈہ ہے ۔ ہندو راشٹر کا ایجنڈہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 2014 ء میں مرکز میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے ہندو راشٹر کے ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز ہوا اور 2023 ء تک ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا ٹارگیٹ ہے۔ ہندو راشٹر مطلب جہاں سیکولرازم اور اقلیتوں کیلئے کوئی حقوق نہیں ہوں گے۔ یہی بات ششی تھرور نے دانشورانہ انداز میں کچھ اس طرح کہی کہ اگر 2019 ء میں بی جے پی دوبارہ برسر اقتدار آتی ہے تو ملک ’’ہندو پاکستان‘‘ بن جائے گا۔ یہاں پاکستان سے مراد ایک علامت ہے اور پاکستان کی صورتحال کا عکس پیش کیا گیا ہے ۔ جس طرح پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی شکایت ہے، کچھ اسی طرح کی صورتحال ہندو راشٹر کی تشکیل کے بعد ہندوستان میں پیدا ہوجائے گی۔ سنگھ پریوار کو چونکہ لفظ پاکستان سے الرجی ہے، لہذا بی جے پی ششی تھرور پر چراغ پا ہے۔ تھرور نے اگرچہ کوئی نئی بات نہیں کہی۔ اسی بات کو دیگر قائدین مختلف انداز سے کہہ چکے ہیں۔ اظہار خیال کا انداز ہر کسی کا مختلف ہوتا ہے اور ششی تھرور کے الفاظ بی جے پی اور سنگھ پریوار کو تیر کی طرح چبھ گئے ۔ انہوں نے نئے دستور کو وضع کرنے سنگھ پریوار کے منصوبہ کو بے نقاب کردیا۔ ہندو پاکستان کے لفظ پر بی جے پی آگ بگولہ ہے تو کانگریس پارٹی نے ششی تھرور کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں الفاظ کے استعمال میں احتیاط کا مشورہ دے ڈالا ۔ کانگریس پارٹی اسے ششی تھرور کی ذاتی رائے قرار دے رہی ہے۔ ششی تھرور کو کانگریس کی کمزور بیساکھیوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کانگریس لفظ پاکستان سے گھبراکر ہندو ووٹ بینک سے محرومی کے اندیشہ کا شکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا لفظ محض ایک تشبیہہ کے سوال کچھ نہیں ۔ جس طرح پاکستان میں جمہوریت کا محض نام باقی رہ گیا ہے، اگر بی جے پی کو دوبارہ اقتدار ملے تو ہندو راشٹر کے نام پر سیکولرازم اور جمہوریت کے بجائے ہر شعبہ میں ہندو رسم و رواج اور تہذیب مسلط کردی جائے گی ۔ موجودہ دستور کی جگہ نیا دستور مدون کیا جائے گا ۔ بی جے پی قائدین بھول رہے ہیں جب انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ پاکستان کی جمہوریت پر طنز کیا تھا ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا فائدہ اٹھاکر یکساں سیول کوڈ اور دیگر متنازعہ قوانین کو منظوری دی جائے گی۔ بی جے پی کو ہوسکتا ہے کہ تکلیف اس بات کی ہے کہ عین انتخابی تیاریوں کے بیچ ششی تھرور نے ان کے خفیہ ایجنڈہ کو آشکار کردیا۔
ملک کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ ہندو راشٹر بی جے پی کا ایجنڈہ اور سنگھ پریوار کا مشن ہے۔ جس طرح پاکستان مذہب کی بنیاد پر قائم ہوا، اسی پس منظر میں مذہب کی بنیاد پر ہندو راشٹر کے منصوبہ کو اگر ہندو پاکستان کہا جائے تو برائی کیا ہے ؟ بی جے پی اور سنگھ پریوار قائدین کو پاکستان سے جتنی نفرت ہے، وزیراعظم نریندر مودی کو اتنی ہی محبت ہے۔ حلف برداری میں نواز شریف کو مدعو کرنے سے لے کر بن بلائے مہمان کی طرح اچانک لاہور پہنچ کر سالگرہ کی مبارکباد دینے کو آخر محبت کہیں یا نفرت ؟ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینے کا اعلان کرنے والے مودی نے سخت کشیدگی کے باوجود بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنے دوست نواز شریف سے مصافحہ کا موقع نہیں گنوایا۔ ایک مرحلہ پر جب سرحدوں پر تناؤ تھا ، مودی ایک کانفرنس میں نواز شریف کو دیکھتے ہی خود پر قابو نہ رکھ سکے اور دور سے ہاتھ ہلاکر علیک سلیک کیا۔ گزشتہ دنوں سرحد پر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی میں کئی ہندوستانی سپاہیوں نے وطن پر جان نچھاور کردی لیکن شنگھائی چوٹی کانفرنس میں نریندر مودی پاکستان کے صدر ممنون حسین سے مصافحہ کرنا نہیں بھولے۔ ان شہید فوجیوں کے خاندانوں پر کیا گزری ہوگی جب انہوں نے مودی کو مصافحہ کرتے دیکھا۔ بی جے پی قائدین کی زبان مودی کی ان حرکتوں کے بارے میں نہیں کھلتی لیکن ششی تھرور نے پاکستان کا لفظ کیا جوڑ دیا وہ آپے سے باہر ہوگئے۔ نریندر مودی کو پہلے پاکستان سے ہمدردی سے روکیں اور پھر دوسروں پر تنقید کریں۔ حالیہ عرصہ تک دونوں ممالک کے مشیران قومی سلامتی کے مذاکرات جاری رہے لیکن عوام میں یہ بیان دیا جاتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کی حوصلہ افزائی تک پاکستان سے کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔ ہندو راشٹر کی تشکیل کیلئے بی جے پی اور سنگھ پریوار نے کیا کسر باقی رکھی ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں کو مختلف موضوعات پر نشانہ بناتے ہوئے عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جارہا ہے۔ گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور شریعت میں تبدیلی کی منصوبہ سازی کی گئی جس کے لئے عدالت کا سہارا لیا گیا ۔ طلاق کے بعد کثرت ازدواج اور حلالہ کو بھی عدالت کے ذریعہ غیر قانونی قرار دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
حیرت تو کانگریس پارٹی پر ہے جس نے ششی تھرور کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ کانگریس جو ووٹ بینک کی خاطر نرم ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، وہ بی جے پی سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کانگریس ششی تھرور کے موقف کی تائید کرتی اور سنگھ پریوار کو منہ توڑ جواب دیا جاتا۔ ایک طرف انتخابات کے موقع پر مختلف ریاستوں میں راہول گاندھی نے مندر درشن یاترا کی اور گزشتہ دنوں مسلم دانشوروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی قرار دیا۔ مسلمانوں کو کانگریس یا کسی اور پارٹی کی تائید کی ضرورت نہیں۔ وہ گزشتہ 70 برسوں میں اپنے تمام ہمدردوں کو آزما چکے ہیں۔ کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی کہنے کے بجائے راہول گاندھی کو کہنا چاہئے کہ ان کی پارٹی ہر ہندوستانی کی ہے ۔ کسی ایک مذہب سے پارٹی کو جوڑنے کا مقصد سیاسی فائدہ کے سوا کیا ہوسکتا ہے ۔ ہندو راشٹر کی تیاریوں کے سلسلہ میں اب مرکزی وزراء بھی کھل کر میدان میں آچکے ہیں۔ جھارکھنڈ میں گوشت کے تاجر علیم الدین کو گزشتہ سال جون میں ہلاک کرنے والے 8 ملزمین کو مرکزی وزیر جینت سنہا نے نہ صرف تہنیت پیش کی بلکہ انہیں مٹھائی کھلائی ۔ دوسری طرف متنازعہ بیانات کیلئے مشہور مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے بہار کی جیل میں فسادات میں ملوث بجرنگ دل کارکنوں سے ملاقات کی۔ جینت سنہا نے قتل کے مجرمین کو اس طرح تہنیت پیش کی جیسے وہ جدوجہد آزادی کے کوئی انقلابی ہوں۔ جینت سنہا نے مجرمین کی گلپوشی کے ذریعہ فوجداری کیس پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ گری راج سنگھ نے بجرنگ دل کارکنوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ بہار میں ہندوؤں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دونوں مرکزی وزراء کا رویہ غیر قانونی اور غیر دستوری اس لئے بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے دستور ہند کی پابندی کا حلف لیا تھا لیکن اپنے عمل کے ذریعہ قانون کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک مسلمان کو ہلاک کرنے والوں کی تہنیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو اقلیتوں کو ہلاک کرنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے ؟
اس کا جواب حکومت کے سربراہ وزیراعظم نر یندر مودی کو دینا چاہئے جن کی کابینہ کے وزراء وقتاً فوقتاً ہندو راشٹر کے حق میں بیان بازی اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اشتعال انگیزی کے ذمہ دار ہیں۔ جب کبھی اس طرح کے واقعات پیش آئے تو مرکزی حکومت نے یہ کہتے ہوئے اپنا دامن بچالیا کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کا مسئلہ ہے۔ نریندر مودی یہ بھول گئے کہ جن ریاستوں میں اقلیتوں کو برسر عام ہلاک کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، ان میں زیادہ تر بی جے پی برسر اقتدار ریاستیں ہیں۔ اب جبکہ مرکزی وزراء نے برسر عام قانون اور دستور کی دھجیاں اڑائی ہیں، وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ اپنی خاموشی توڑیں اور دونوں کو وزارت سے برطرف کردیں۔ وزارت سے برطرفی ان کے جرم کیلئے معمولی سزا ہے۔ اگر نریندر مودی خاموش رہیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ مرکزی وزراء کی حرکتوں کو ان کی تائید حاصل ہے۔ یہ وہ مرکزی وزراء ہیں جن کا آر ایس ایس اور دیگر سنگھ پریوار کی تنظیموں سے قریبی تعلق رہا ہے ۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بی جے پی اپنے بعض چیف منسٹرس اور مرکزی وزراء کو ہندو راشٹر کے پوسٹر بوائے کے طور پر عوام کے درمیان پیش کر رہی ہے۔ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرتے ہوئے ووٹ بینک مستحکم کرنے کی کوششیں آنے والے دنوں میں مزید تیز ہوجائیں گی۔ مرکز وسط مدتی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے اور نریندر مودی کو دوبارہ اقتدار میں واپسی کیلئے ترقی کے بجائے فرقہ پرست ایجنڈہ کو اختیار کرنا پڑے گا۔ افسوس تو غیر بی جے پی جماعتوں پر ہے جو ابھی بھی خواب غفلت کا شکار ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسا چہرہ موجود نہیں جسے مودی کا متبادل سمجھا جاسکے۔ غیر بی جے پی جماعتوں میں قیادت کی کمی اور کانگریس کے کمزور موقف نے بی جے پی کے حوصلوں کو بلند رکھا ہیں۔ اگر راہول گاندھی موجودہ روش میں تبدیلی نہیں لائیں گے تو نریندر مودی کو آئندہ انتخابات میں ہرانا آسان نہیں ہوگا۔ شہود عالم آفاقی نے کیا خوب کہا ہے ؎
اک شخص نے اس شہر میں سچ بول دیا تھا
کٹتی ہوئی لوگوں کی زباں دیکھ رہا ہوں