نئی دہلی 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مرکز اور دیگر کو 2015-16 کے کُل ہند پری میڈیکل ٹسٹ کے دوبارہ انعقاد کی خواہش کرتے ہوئے نوٹسیں جاری کردی اور کہا کہ وسیع پیمانہ پر بے قاعدگیوں کی وجہ سے یہ امتحان دوبارہ کیوں نہ لیا جائے ۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس یو یو للت پر مشتمل تعطیلات بنچ نے حکومت ہند ‘مرکزی بورڈ برائے ثانوی تعلیم ‘ (سی بی ایس ای) ‘ میڈیکل کونسل آف انڈیا اور حکومت ہریانہ سے جواب طلب کیا ہے کہ بے قاعدگیوں کا پتہ چل جانے کے بعد 21 مئی کو اس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی جائے گی۔ تنوی سروال میں قانون داں پرشانت بھوشن کے توسط سے ایک درخواست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم ہریانہ کی جانب سے مبینہ جوابی پرچوں کے افشاء کی تحقیقات کی گئی تھیں اور ملزم گرووہ مختلف ریاستوں بشمول بہار‘اتر پردیش اور راجستھان میں سرگرم تھا ۔ اخباری اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ امتحان 3 مئی کو منعقد کیا گیا تھا جو پولیس کی تحقیقات کی روشنی میں مسموم ہوچکا ہے۔