کوہیر /14 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کوہیر منڈل ڈیولپمنٹ آفس پر شریمتی جے انیتا صدرنشین کوہیر منڈل کی زیر صدارت میں منڈل سطح کے تمام عہدیدار اور اراکین منڈل پریشد سرپنچوں کا ایک اہم اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقع پر حکومت کی جانب سے ہونے والے سروے کے بارے میں پروگرام منعقد کیا گیا ۔ اس موقع پر کوہیر منڈل اسپیشل آفیسر ایس رتنم نے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 19 اگست کو ہونے والا سروے ایک اہم سروے ہے ۔ سرکاری عہدیدار خود عوام کے مکان جاکر تمام تفصیلات حاصل کریں گے ۔ انوہں نے کہا کہ 19 اگست کو ہر حال میں اپنے اپنے مکانوں میں رہ کر سرکاری عہدیاروں کا تعاون کریں اور تمام پوچھے گئے سوالات کے تفصیل بتائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک رہنے والوں کا پاسپورٹ زیراکس کاپی یا پھر آدھار کارڈ کی کاپی بتائیں ۔ اس موقع پر محمد اشرف علی کوآپشن ممبر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے صرف زبانی باتیں کر رہی ہے ۔ اپنے وعدوں پر عمل ندارد اشرف علی نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کئی اور حیدرآباد میں اردو زبان کو پڑھنے لکھنے والوں کی کثیر تعداد رہتی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا وعدہ آج تک ندارد ہے ۔ آندھراپردیش حکومت نے ہمیشہ اردو زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا تھا ۔ تلنگانہ حکومت پر علحدہ ریاست قائم ہونے کے باوجود اس پر قائم ہے ۔ حکومت نے سروے کے متعلق ایک دستاویز کو اردو زبان میں شائع نہیں کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے اردو داں طبقہ کو دشواریاں پیدا ہو رہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ایک اور اردو داں ہونے کے باوجود ابھی تک عمل آوری نہیں ہاپارہی ہے ۔ چیف منسٹر چندرا شیکھر کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن عمل کے معاملے صفر ہیں ۔