کوہیر منڈل صدرنشین عہدے کیلئے سخت مقابلہ

کوہیر ۔ 19 ۔ جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کوہیر منڈل پرجا پریشد صدرنشین کے انتخاب کیلئے کانگریس اور ٹی آر ایس پارٹیوں میں سخت مقابلہ نظر آرہا ہے ۔ دونوں پارٹیاں اپنا دعوی پیش کررہے ہیں کسی بھی پارٹی کو صدرنشین کا عہدہ حاصل کرنا ہو تو 9 اراکین منڈل پرجا پریشد کی تائید حاصل کرنا ہوگا کیونکہ کوہیر منڈل پرجا پریشد کے جملہ 16 اراکین ( ایم پی ٹی سی ) ہیں یہاں پر کسی بھی پارٹی کو بھرپور تائید حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ کانگریس پارٹی کے 7 ایم پی ٹی سی کامیاب ہوئے ہیں ۔ تلگودیشم پارٹی کے 4 ایم پی ٹی سی اور ٹی آر ایس کے 3 ایم پی ٹی سی ، 2 ایم آئی ایم کے ایم پی ٹی سی کامیاب ہوئے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کو صدرنشین عہدے کیلئے دو اراکین کی ضرورت ہے اور اس طرح ٹی آر ایس کو 7 ایم پی ٹی سی کی ضرورت ہے ۔ ٹی آر ایس پارٹی قائدین یہ دعوی پیش کررہے ہیں کہ تلگودیشم اور ایم آئی ایم کے ایم پی ٹی سی کی تائید حاصل ہوئی ہے اور دوسری جانب کانگریس پارٹی یہ دعوی پیش کررہی ہیکہ ان کے پاس ضرورت کے مطابق اراکین کی تائید حاصل ہے ۔ کانگریس پارٹی نے ان کی تائید کرنے والے ایم پی ٹی سی کے ناموں کو صیغہ راز میں رکھا ہے بتایا ہیکہ کانگریس اور ٹی آر ایس پارٹی نے اراکین منڈل پرجا پریشد کو اپنے اپنے کیمپوں کو منتقل کردیا ہے تلگودیشم پارٹی کے ایم پی ٹی سی اور ایم آئی ایم کیے ایم پی ٹی سی کس کی تائید کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا یہاں پر تلگودیشم اور ایم آئی ایم ووٹوں کی تائید بہت زیادہ اہمیت کی حاصل بن چکی ہے ۔ واضح رہے کوہیر منڈل صدرنشین کا عہدہ بی سی خاتون کیلئے مختص کیا گیا ہے بتایا ہیکہ کانگریس پارٹی موضع مدری سے کامیاب ہونے والی واحد مسلم پی سی خاتون ادیبہ النساء اور موضع وینگول سے کامیاب ہونے والی خاتون منجملہ سرینواس اپنا دعوی پیش کررہے ہیں اب دیکھنا یہ ہیکہ صدرنشین کا عہدہ کس کو ملتا ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے موضع خانہ پور کستور کی ایک ہی خاتون دعوے پیش کررہی ہیں ۔