رانچی ؍ کولمبو ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا کے خلاف حالیہ منعقدہ ونڈے سیریز میں 5-0 کی شاندار کامیابی کے بعد ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کارگذار کپتان ویراٹ کوہلی نے کہا کہ سیریز میں اس طرح کی شاندار فتوحات کی اصل وجہ کھلاڑیوں کی جانب سے مثبت اور جارحانہ مظاہرے پیش کرنا ہے۔ ہندوستانی ٹیم جس نے گذشتہ رات کپتان مہندر سنگھ دھونی کے شہر رانچی میں سیریز کے پانچویں اور آخری مقابلہ میں بھی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سری لنکا کو 5-0 کی شرمناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ ناقابل تسخیر 139 رنز اسکور کرتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں کلیدی رول ادا کرنے والے کوہلی نے کہا کہ سیریز میں کامیابی کی اصل وجہ کھلاڑیوں کی جانب سے مثبت اور جارحانہ کھیل پیش کرنا ہے کیونکہ ساتھی کھلاڑیوں نے دفاعی منفی طرزرسائی اختیار نہیں کی۔ یہی وجہ خوبی ہے جس پر ہم اپنی توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں شرکت سے قبل مثبت اور جارحانہ کھیل کی پالیسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور بہت ہی خوبصورتی سے یہ نتائج بھی حاصل ہوچکے ہیں۔ کوہلی نے کہا کہ برصغیر سے تعلق رکھنے والی پڑوسی ٹیم کو باآسانی شکست دینے کیلئے ضروری تھا کہ میزبان کھلاڑیوں میں جارحانہ برتاؤ دیکھا جائے۔ کوہلی کے بموجب برصغیر کی ٹیم کو سیریز میں وائیٹ واش کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ یہ ہمیشہ ہی مشکل ہوتا ہے کیونکہ حریف ٹیم بھی مقامی حالات سے بخوبی واقف ہوتی ہے۔ کوہلی جنہوں نے ناتجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود نمبر 4 پر بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اسکور کی ہے حالانکہ وہ عموماً نمبر 3 پر بیٹنگ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ وہ اس وقت اس موضوع پر اظہارخیال نہیں کرنا چاہتے۔ صرف اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ وہ نمبر 4 پر بیٹنگ کرتے ہوئے میڈل آرڈر کو مستحکم کرنا چاہتے تھے۔ کوہلی نے مزید کہا کہ جہاں تک ممکن ہوسکے وہ نمبر 3 یا نمبر 4 کسی بھی مقام پر کھیلنے کیلئے تیار ہیں اور وہ اس مظاہرہ کے خواہاں ہے جس کی ٹیم کو ضرورت ہو کیونکہ ان کا ماننا ہیکہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق مظاہرہ کرنا ان کا مقصد ہے۔ کوہلی نے بیٹنگ کے مقام کی تبدیلی کے متعلق مزید کہا کہ جو کچھ بھی ہو تاہم وہ نئے مقام پر بیٹنگ کرتے ہوئے کچھ نیا ضرور سیکھ رہے ہیں۔ کوہلی نے متاثر کرنے والے اسپنر اکشر پٹیل کے آل راونڈ مظاہروں کی دل کھول کر ستائش کی اور خصوصاً گذشتہ روز اعصاب شکن لمحات میں جس طرح اسپنر نے کپتان کا ساتھ دیا اس پر کوہلی کا کہنا ہیکہ اکشر پٹیل آئندہ برس منعقد شدنی ورلڈ کپ میں ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب سری لنکا کی شرمناک شکست کی تمام ذمہ داری ٹیم کے سلیکٹروں کے چیرمین سنت جئے سوریہ نے قبول کرلی ہے۔ جئے سوریہ جو کہ وزارت اسپورٹس کے نائب بھی ہیں، انہوں نے پارلیمنٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سری لنکائی ٹیم کے ناقص مظاہروں کا ذمہ دار وزارت اسپورٹس یا کسی اور کو ٹھہرایا نہیں جاسکتا بلکہ اس شکست کی وہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جئے سوریا کے سابق کپتان ارجنا رانا تنگا اور دوسرے ارکان پارلیمنٹ میں ہندوستان میں سری لنکا کے ناقص مظاہروں کا ذمہ دار انتظامیہ، سلیکٹرس اور کپتان کو قرار دیا تھا جس پر جئے سوریہ نے آج یہ بیان دیا۔