نارائن پیٹ 6 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نارائن پیٹ ڈیویژن کے حلقہ اسمبلی نارائن پیٹ اور کوڑنگل کو تلنگانہ ریاست میں نئے بنائے جانے والے اضلاع ونپرتی میں شامل کئے جانے کی مخالفت عوامی احتجاج میں تبدیلی ہورہی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے انتخابات کے دوران کہا تھا کہ ناگر کرنول اور ونپرتی کو نئے اضلاع کی فہرست میں شامل کیا جائے گا ۔ ٹی آر ایس کے اقتدار پر آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ونپرتی کو اگر ضلع بنایاجاتا ہے تو اس میں حلقہ اسمبلی جات گدوال ،ونپرتی ،عالم پور ،کوڑنگل اور نارائن پیٹ کو شامل کیا جانے والا ہے ۔ نارائن پیٹ اور کوڑنگل سے ونپرتی کا فاصلہ 160 کیلو میٹر پر مشتمل ہے ۔ محبوب نگر مستقر کو عبور کر کے 70 کیلو میٹر کا فاصلہ طئے کرنا پڑتا ہے جو کہ کوڑنگل اور نارائن پیٹ کو ضلع بنایا جاکر اس میں حلقہ اسمبلی کوڑنگل ،نارائن پیٹ ،مکتھل اور دیورکدرہ کو شامل کیا جائے کیونکہ نارائن پیٹ قدیم تجارتی مرکز ہے۔ مسٹر ایس راجندر ریڈی رکن اسمبلی نارائن پیٹ نے حلقہ اسمبلی نارائن پیٹ کو ونپرتی ضلع بنائے جانے کی صورت میں شمولیت کی اطلاعات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نارائن پیٹ کو ونپرتی میں شامل کرنے کے متعلق قوچنے والوں کو سب سے پہلے ضلع محبوب نگر کے جغرافیائی حدود اور نقشہ کا مطالعہ کرنا چاہئے عوام کو سہولت پہنچانے کے بجائے عوام کو مصائب کا شکار بنانا اس طرح کی باتیں سوچنے کی مترادف ہے۔ کوڑنگل اور نارائن پیٹ کی شمولیت ونپرتی میں کسی بھی صورت نا قابل قبول ہے اگر ایسا ہوا تو عوامی احتجاج شروع کیا جائے گا ۔ عوام بھی ان اطلاعات پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں ۔ عوام کا کہنا ہیکہ نارائن پیٹ کو ضلع کا درجہ دیا جائے یا محبوب نگر ضلع میں ہی رہنے دیا جائے یا پھر حیدرآبدا ضلع میں ملایا جائے کیونکہ نارائن پیٹ سے حیدرآباد کا فاصلہ 160 کلو میٹر ہے اور ونپرتی کا فاصلہ بھی 160 کیلو میٹر ہے ۔ عوامی سہولت کے نام پر عوام کو تکلیف پہچانے کے سیاسی فیصلہ نہ لینے کی بات عوام میں گفتگو و بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔