وشاکھاپٹنم ، 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) متواتر دو فتوحات کے بعد مائل بہ عروج حوصلے کے ساتھ ڈیفینڈنگ چمپین کولکاتا نائیٹ رائیڈرس کی کوشش جیت کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگی جب انھیں اپنے پانچویں آئی پی ایل ٹوئنٹی 20 میچ میں کل یہاں استقلال سے عاری سن رائیزرس حیدرآباد کاسامنا رہے گا ۔ گوتم گمبھیر زیرقیادت کے کے آر کی تازہ کامیابی کل شب دہلی ڈیر ڈیولس کے خلاف درج ہوئی اور اس نتیجہ نے انھیں پوائنٹس ٹیبل میں چوتھی پوزیشن پر پہونچادیا ۔ انھوں نے اب تک صرف ایک ناکامی کے ساتھ تین کامیابیاں حاصل کئے ہیں۔ دوسری طرف حیدرآباد اپنے گزشتہ میچ میں دہلی کے مقابل ہارا تھا اور موجودہ طورپر تین ناکامیوں اور محض ایک جیت کے ساتھ ٹیبل پر چھٹا مقام رکھتا ہے ۔ دہلی کے خلاف شکست حوصلہ شکن رہی تھی کیونکہ حیدرآباد صرف 4 رن سے ہارا تھا ۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ اپنی لائن اپ کو سدھارنے میں مصروف ہے جو بیرونی کھلاڑیوں پر بہت انحصار کرتا آیا ہے کیونکہ نمایاں کارکردگی وہی کھلاڑی دکھاتے آئے ہیں۔ حیدرآباد کی بیٹنگ اگر کپتان ڈیوڈ وارنر اور شکھر دھون کی اوپننگ جوڑی کو چھوڑ دیں تو بڑی کمزور نظر آتی ہے اور جب بھی اوپنرس ناکام ہوگئے تو پھر پوری ٹیم کا برا حال ہوا ہے ۔
دہلی کیخلاف ان کے گزشتہ میچ میں بھی کچھ یہی ہوا جب مڈل آرڈر نے ٹیم کو مایوس کیا۔ حیدرآباد کی بولنگ کی قیادت جنوبی افریقی اسٹار ڈیل اسٹین کرتے ہیں اور بہت کچھ اُن پر منحصر رہے گا کہ وہ بھونیش کمار کے ہمراہ اپنے چار اوورس سے ٹیم کو کس حد تک فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ دریں اثناء کے کے آر مجموعی طورپر اچھا کھیل رہی ہے اور گزشتہ مقابلے میں اُن کی بولنگ نے ٹائٹل ہولڈرس کیلئے ایک اور جیت درج کرانے کا کام کیا۔ اُمیش یادو اور مورنے مورکل کی پیس جوڑی نے ملکر دہلی کے بیٹسمینوں کو باندھے رکھا اور اُپنی ٹیم کے بیٹسمینوں کا کام آسان بنایا۔ بعد میں گمبھیر اور یوسف پٹھان نے معقول اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی اطمینان بخش کامیابی یقینی بنائی ۔ دونوں ٹیموں کے موجودہ فام کو دیکھتے ہوئے کے کے آر کو ابتدائی طورپر پسندیدہ ٹیم کا موقف حاصل رہے گا لیکن اگر وارنر یا اسٹین جیسے پراثر کھلاڑی کچھ دھماکہ کرتے ہیں تو کوئی غیرمتوقع نتیجہ بھی برآمد ہوسکتا ہے ۔ حیدرآباد کو پراستقلال مظاہرہ کیلئے ڈومیسٹک کھلاڑیوں کی بہتر کارکردگی چاہئے ۔