کورٹلہ میں کانگریس کو باغی امیدواروں سے خطرہ

کورٹلہ۔/11اپریل، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی کورٹلہ میں مسلمانوں کو بادشاہ گر کا موقف حاصل ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہوئے 1994ء کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں میں کانگریس پارٹی کے خلاف جو شدید برہمی پائی گئی تھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانان کورٹلہ کی تائید سے جناب شکاری وشواناتھم تلگودیشم پارٹی امیدوار نے جناب جواڈی رتناکر راؤ کانگریس پارٹی امیدوار کو بھاری اکثریت سے شکست دے کرحلقہ اسمبلی تگارام سے منتخب ہوئے ۔ حلقہ اسمبلی کورٹلہ کے عوام کا جناب ودیا ساگر راؤ سابق ایم ایل کے تعلق سے تاثر یہ ہے کہ جب سے جناب ودیا ساگر راو رکن اسمبلی کورٹلہ منتخب ہوئے ہیں کورٹلہ کی تمام ترقیاتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔کورٹلہ کے عوام کا کہنا ہے کہ کورٹلہ میں جو ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ جناب جواڈی رتناکر راؤ سابق ریاستی وزیر کے دور میں ہوئے ہیںجبکہ جناب کلواکنٹلہ ودیا ساگر راؤ نے علحدہ تلنگانہ ریاست کے نعرے کے علاوہ کورٹلہ میں کوئی قابل فخر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ جناب جواڈی رتناکر راؤ سابق ریاستی وزیر کی دو مرتبہ شکست کے باوجود ان کے فرزند جناب جواڈی نرسنگ راؤ ، جناب کرشنا راؤ عوام سے تعلقات استوار کئے ہوئے تھے۔ جناب جواڈی رتناکر راؤ سابق ریاستی وزیر جو کانگریس آئی کے بزرگ قائد ہیں ، کانگریس ہائی کمان کے پاس ان کا اچھا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔ اس بار توقع کی جارہی تھی کہ حلقہ اسمبلی کورٹلہ سے کانگریس پارٹی کا ٹکٹ جناب جواڈی رتناکر راؤ کے بڑے فرزند جناب جواڈی نرسنگ راؤ کو دیا جائے گا لیکن کانگریس کا ٹکٹ جناب جواڈی نرسنگ راؤ کے بجائے جناب کومی ریڈی راملو کو دیئے جانے پر کانگریس آئی پارٹی دوگروپوں میں بٹ گئی۔ کورٹلہ منڈل میں جناب جواڈی نرسنگ راؤ جن کا کورٹلہ منڈل کے عوام سے قریبی تعلق ہے جناب جواڈی نرسنگ راؤ کی بھرپور تائید کررہے ہیں۔ جناب جواڈی نرسنگ راؤ جنہیں کانگریس آئی پارٹی کے ٹکٹ سے محروم کردیا گیا ہے۔ کانگریس آئی ہائی کمان کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے اپنے حامیوں کے دباؤ میں آکر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کئے جبکہ کانگریس آئی پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند ڈاکٹر جے وینکٹ نے بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ کانگریس آئی پارٹی میں خلفشار سے حلقہ اسمبلی کورٹلہ کے مسلمان تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں کس پارٹی کی تائید کریں۔

کیونکہ مسلمانوں کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے والے جناب کے ودیا ساگر راؤ سابق رکن اسمبلی کورٹلہ، جناب مدھو یشکی گوڑ رکن پارلیمنٹ نظام آباد نے اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ حلقہ اسمبلی کورٹلہ میں مسلمان جو بادشاہ گر موقف رکھتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ستائے جارہا ہے کہ اقلیتوں کے ووٹو ں کی تقسیم سے کہیں فرقہ پرست پارٹیوں کو فائدہ نہ پہونچے۔ جناب محمد عبدالسلیم فاروقی جرنلسٹ کورٹلہ نے مسلمانان کورٹلہ سے سابق روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے سیکولر ذہن کے حامل امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرنے کی اپیل کی جو فرقہ پرست پارٹی سے اپنا لوہا منواسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک آج فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہا ہے۔ فرقہ پرست پارٹیاں مذہبی جذبات کو ہوا دے کر اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ ایسے میں اقلیتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسی پارٹی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں جو اقلیتوں کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کا تحفظ کرسکتی ہو۔