دمشق ، 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شام اور ترکی کی سرحد کے ساتھ کوبانی کے قصبے میں مہینے بھر سے جاری لڑائی میں اب تک 660 سے زائد ہلاکتیں واقع ہو چکی ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں قائم سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس جس کے شام کے اندر ذرائع ہیں، اس نے بتایا ہے کہ کوبانی میں کرد افواج سے لڑتے ہوئے داعش کے 374 سے زائد شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ 258 کرد جنگجو، کردوں کی حمایت کرنے والے دیگر 10 افراد اور 20 شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ آبزرویٹری نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کے بارے میں ان کے اعداد دوگنا ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ داعش اور کرد افواج دونوں کی طرف سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں برتی جانے والی انتہائی درجے کی رازداری ہے۔
امریکہ عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ داعش کی جانب سے کوبانی پر دھاوا بولنے کا عمل ستمبر میں شروع ہوا، اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر تعداد شام کے کردوں کی ہے، سرحد پار کر کے ترکی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ادھر شام میں ایک کرد کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو دفاعی اہمیت کے حامل شہر کوبانی کے دو حصوں کے علاوہ تمام علاقوں سے نکال دیا گیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارہ کے مطابق شہر کے مشرق میں آپریشن کے انچارج کمانڈر بحرین کندال نے بتایا کہ امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو پسپا ہونے پر محبور ہوئے۔ علاقے میں کرد ملیشیا کے انچارج کمانڈر نے امید ظاہر کی ہے کہ دولت اسلامیہ سے تمام شہر کو جلد خالی کرا لیا جائے گا۔ اس سے پہلے ایک کرد اہلکار ادریس نسان نے بتایا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے حالیہ دنوں میں شہر کے 20 فیصد سے زیادہ حصے کا کنٹرول کھو دیا ہے۔ چند دن پہلے تک دولتِ اسلامیہ کے پاس کوبانی کے 40 فیصد حصے کا کنٹرول تھا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قیادت میں لڑنے والی افواج نے منگل اور چہارشنبہ کو کوبانی اور اس کے نواح میں 18 فضائی حملے کئے۔ اس دوران جنگی پوزیشنیں تباہ کی گئیں اور 16 عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔