نپیر۔3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ کے اپنے گذشتہ مقابلے میں زمبابوے کو20 رنز سے شکست دینے والی پاکستانی ٹیم کی نظریں اب گروپ میں سب سے کمزور حریف متحدہ عرب امارات پر مرکوز ہیں تاکہ اس کل یہاں کھیلے جانے والے مقابلے میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کوارٹر فائنل کی راہ آسان بنائی جائے۔پاکستانی ٹیم کوشاں ہے کہ اس میچ کو بڑے فرق سے جیت کر اپنے رن ریٹ کو بھی بہتر بنائے اور نشانات کے جدول میں اپنا موقف بہتر ہوجائے۔ تاہم پاکستان کے سابق ٹسٹ کرکٹرز اور متحدہ عرب امارت کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید اور بیٹنگ مشیر مدثر نذر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیںکیونکہ دونوں کی رائیمیں اماراتی ٹیم پاکستان کے لئے تر نوالہ ثابت نہیں ہوگی۔عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کے لئے یہ میچ آسان نہیں ہوگا ہمارے پاس بڑے ناموں والے کھلاڑی نہیں ہیں
لیکن ان کے پاس جذبہ ہے، کھلاڑی پاکستان کو سخت مشکل وقت دیں گے۔ میچ یکطرفہ نہیں ہوگا۔اگر پاکستانی کھلاڑیوں نے ہمارے کھلاڑیوں کو آسان حریف سمجھنے کی کوشش کی تو انہیں مشکل پیش آسکتی ہے۔پاکستان نے زمبابوے کے خلاف مقابلے میں جدوجہد کے بعدپہلی کامیابی حاصل کی ہے۔بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولروںوہاب ریاض اورمحمد عرفان نے فی کس چار وکٹ حاصل کرکے ٹیم کی پہلی کامیابی میں اہم رول ادا کیا ہے۔پول بی میں ابھی بھی صورتحال غیر واضح ہے۔ہندوستان تینوں میچ جیت چکا ہے۔6 مارچ کو پرتھ میںہندوستان اور ویسٹ انڈیز کا میچ اہم ہوگا۔دوسرے دن آکلینڈ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ اور ہوبارٹ میں آئر لینڈ اور زمبابوے کے میچ سے صورتحال واضح ہوگی۔
اگر آئر لینڈ نے زمبابوے کو شکست دے دی تو پاکستان کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو کم سے کم غلطیاں کرنی ہوں گی۔ مصباح الحق بیٹنگ شعبہ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ پاکستانی ٹیم کے ٹاپ آرڈر کے مظاہرے انتہائی مایوس کن ہے جیسا کہ اوپنر احمد شہزاد کے ہمراہ ناصر جمشید ٹیم کو بہتر شروعات فراہم کرنا تو درکنار مجموعی طور پر اس جوڑی نے دوہرے ہندسے کو بھی عبور نہیں کیا جبکہ ہندوستان کے خلاف کھیلے گئے مقابلہ میں یونس خان کو بحیثیت اوپنر بھی آزمایا گیا جو ناکام ہوئے اور انہیں گذشتہ مقابلہ میں ٹیم سے ہی خارج کردیا گیا تھا۔ پاکستان کے لئے اس مقابلہ میں واضح فرق سے کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے
کیونکہ پول بی میں اس کا رن ریٹ -1.37 ہے جس کی وجہ سے وہ ٹیموں کے جدول میں نچلی صف سے دوسرے مقام پر موجود ہے۔ زمبابوے جیسی چھوٹی ٹیم کے خلاف بھی پاکستان کا بیٹنگ شعبہ بڑی مشکل سے 235 رنز اسکور کر پایا۔ کل کے مقابلہ میں احمد شہزاد، شاہد آفریدی اور عمر اکمل کیلئے ایک بہترین موقع ہوگا کہ وہ بڑی اننگز کھیلتے ہوئے نہ صرف اپنے اعتماد کو بحال کریں بلکہ ٹیم کو بڑی کامیابی دلوانے میں بھی کلیدی رول ادا کریں۔ امید کی جارہی ہیکہ متحدہ عرب امارات کی اسپن کے خلاف ناقص مظاہرہ کی خامی کا فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستانی ٹیم میں لیگ اسپنر یاسر شاہ کو شامل کیا جائے گا۔ مصباح الحق کے بموجب زمبابوے کے خلاف 20 رنز کی قریبی کامیابی کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند ہوئے ہیں اور وہ ورلڈ کپ کی مہم کو صحیح ڈگر پر واپس لانے کیلئے پرعزم ہیں۔