دہرہ دون 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام )ہر اسکول میں جہاں اقلیتی طبقہ کی طلباء کی تعداد 10 یا اس سے زیادہ ہو ایک اردو ٹیچر کا تقرر ضروری ہے ۔ چیف منسٹر اترا کھنڈ ہریش راو نے آج پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں جہاں بھی اقلیتی طلباء کی تعداد کم از کم 10 ہو وہاں جلد ہی ایک اردو ٹیچر کا تقرر کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی حکومت اقلیتی فلاح و بہبود کی پابند ہے اور اردو ترجمان کا ایک عہدہ بھی قائم کرے گی جس پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود بشمول مدرسہ کی تعلیم کو ترقی دینے کیلئے اقدامات شامل ہیں کئے جارہے ہیں۔ ریاست میں دینی مدرسوں کو مسلمہ حیثیت دی گئی ہے ۔ ایک تین سالہ لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ریاست میں قبرستانوں کے اطراف احاطہ تعمیر کیا جائے گا ۔ انہوں نے تیقن دیا کہ ہیم کند صاحب کے یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایک پانچ سالہ لائحہ عمل وان گجروں کو کی باز آباد کاری کیلئے بھی تیار کیا جارہا ہے ۔