کمسن لڑکی کے اغوا اور قتل کے الزام میں 9افراد گرفتار

گلبرگہ ۔ 19 ۔ فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کوپل پولس نے17فبروری کو 9افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے پوشیدہ خزانے کے حصول کے لیے کالے جادو کے اثر کو زود اثر بنانے کی غرض سے ایک کمسن لڑکی کا اغوا کیا اور بعد ازاں اس کی بلی چڑھا دی اور اس سلسلے میں پولس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک کار ،چار موبائل فونس اور پوجا میں استعمال ہونے والا سامان بھی ضبط کر لیا ہے۔پولس نے کہا ہے کہ 9افراد نے 26جنوری کے دن اس کمسن لڑکی کو اغوا کر لیا تھا اور اس کی بلی ایک عمارت میں چڑھا دی تھی جہاں ان کے عقیدے کے مطابق کوئی بہت بڑا خزانہ پوشیدہ ہے۔پولس نے اسی بلڈنگ کے احاطہ سے مقتولہ کی لاش 3فروری کو برآمد کر لی تھی۔پولس کا کہنا ہے کہ وہ اس تانترک کی تلاش میں ہے جو اس سارے ڈرامے کا اصل کردار ہے اور وہ کیرلا کا ساکن بتایا جارہا ہے،اس کو گرفتار کرنے کی غرض سے پولس نے ایک خصوصی دستہ تشکیل دیا ہے۔پولس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ یہ سیدھا سادا قتل اور اغوا کا کیس ہے مگر جب کالے جادو کے بارے میں اس کیس میں شواہد ملے تو پولس نے اس کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیا۔پولس نے کہا ہے کہ مقتولہ کا نام مہیشوری شرنپا ہے اور اس کی عمر 5سال کی تھی۔کہا جارہا ہے کہ وہ 26جنوری سے لاپتہ تھی۔لڑکی کی موت کے پس پردہ کالے جادو کی کارفرمائیوں کا الزام عائدکر تے ہوئے مقتولہ کے والدین نے کوپل ضلع سرکاری اسپتال کے باہر اس کے رشتہ داروں کے ہمراہ دھرنا دیا تھا۔انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑکی کو پوشیدہ خزانے کے حصول کی ضرض سے اغوا کرتے ہوئے شرپسندوں نے اس کی بلی چڑھائی ہے۔انھوں نے خاطیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔