۔2 جی اسکام فیصلہ … کانگریس کو راحت ، بی جے پی کو حیرت
پارلیمنٹ میں تعطل … منموہن سنگھ سے معافی ضروری
رشیدالدین
گجرات میں کانگریس کے حوصلہ افزاء مظاہرے کے بعد 2جی اسپیکٹرم اسکام میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ یو پی اے کے لئے راحت و اطمینان کا باعث بنا جبکہ گجرات اور ہماچل پردیش کی کامیابی کے دو دن بعد بی جے پی اور این ڈی اے کو اس فیصلہ سے دھکا لگا ہے۔ جس اسکام کے پروپگنڈہ کے ذریعہ بی جے پی 2014 ء میں مرکز میں اقتدار تک پہنچی، عدالت کے فیصلے نے گزشتہ 7 برسوں سے جاری مقدمہ میں تمام ملزمین کو بری کردیا۔ عدالت کے فیصلہ کی خصوصیت یہ رہی کہ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو کلین چٹ دیتے ہوئے ان کے مسٹر کلین امیج کو برقرار رکھا۔ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکام یعنی ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کا سرکاری خزانہ کو نقصان ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی زیر قیادت اپوزیشن نے ملک بھر میں کچھ ایسا پروپگنڈہ کیا تھا کہ عوام بآسانی اس کا شکار ہوگئے۔ کرپشن کے خلاف جدوجہد کے نام پر کئی تحریکات نے جنم لیا اور یو پی اے کی دوسری میعاد میں 2جی کے بھوت نے تعاقب کیا اور آخرکار کانگریس اقتدار سے محروم ہوگئی۔ لوک سبھا میں عددی طاقت اور نشستوں کے اعتبار سے کانگریس کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ جن کی دیانتداری شبہ سے بالاتر ہے، انہیں ہر جگہ صفائی دینی پڑی۔ آخر کار عدالت نے سی بی آئی کو پھٹکار لگاتے ہوئے تمام ملزمین کو بری کردیا۔ عدالت کے فیصلہ کے مطابق اس طرح کے اسکام کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی کی دختر کنی موزھی اور اس وقت کے وزیر اے راجہ کو اس مقدمہ میں جیل بھی جانا پڑا۔ نریندر مودی اور بی جے پی کو جب کبھی کانگریس کو نشانہ بنانا ہوتا تو ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کے اسکام کا ضرور تذکرہ کرتے۔ جس اسکام نے کانگریس کو اقتدار سے محروم کیا ، اس مقدمہ کا فیصلہ ایسے وقت آیا ، جب کانگریس گجرات میں اپنے بہتر مظاہرے اور پارٹی کے نئے صدر کی حیثیت سے راہول گاندھی کے انتخاب کی خوشی منا رہی تھی۔ فیصلہ نے نہ صرف کانگریس بلکہ تمام حلیف جماعتوں کی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہوئے نیا حوصلہ عطا کیا ہے۔ اپوزیشن کے الزامات کے بعد اسکام کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کی گئی تھیں۔ 6 سال تک سماعت اور 200 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد بی جے پی دور حکومت میں فیصلہ سنایا گیا۔ اگر یہی فیصلہ یو پی اے دور میں آتا تو سی بی آئی اور عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ۔ گزشتہ تین برسوں میں سی بی آئی مرکزی کی بی جے پی حکومت کے تحت کام کر رہی ہے ۔ پھر بھی وہ اسکام کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ ’’جھوٹ کو اس قدر دہراؤ کہ لوگ سچ مان لیں‘‘۔ اس فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے نریندر مودی اور ان کی ٹیم نے 2جی اسکام کی آڑ میں کانگریس کو بدعنوان ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کرپشن کے خلاف جدوجہد کے نام پر انا ہزارے ، اروند کجریوال ، یوگیندر یادو ، کرن بیدی اور پرشانت بھوشن جیسے کئی جہد کار عوام کے درمیان آئے۔ کجریوال کو دہلی کا اقتدار حاصل ہوگیا۔ کرن بیدی بی جے پی میں شامل ہوگئی اور انا ہزارے دوبارہ اپنی کٹیا میں واپس ہوگئے۔ انا ہزار نے جن لوک پال کا مطالبہ کیا تھا، جس کی ابھی تک تکمیل نہیں ہوئی لیکن تین برس سے انا ہزارے خاموش ہیں ، وہ نریندر مودی حکومت کے تازہ اسکامس پر بھی تبصرہ سے گریز کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بی جے پی کو 2014 ء میں اقتدار میں لانے کیلئے یہ تحریک شروع کی گئی تھی اور کام کی تکمیل کے ساتھ ہی خاموشی اختیار کرلی گئی ۔ عدالت کے فیصلہ سے ایک طرف کانگریس اور یو پی اے کا امیج بحال ہوا تو دوسری طرف ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی۔ جیہ للیتا کی موت کے بعد انا ڈی ایم کے پھوٹ کا شکار ہے۔ ایسے میں ڈی ایم کے کا موقف مستحکم ہوا ہے۔ بی جے پی جنوبی ہند میں قدم جمانے کیلئے ٹاملناڈو میں حلیف تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس فیصلہ کے بعد ڈی ایم کے کا اگلا قدم کیا ہوگا ، اس پر سیاسی مبصرین کی گہری نظر ہے۔
اگر ڈی ایم کے کانگریس کے ساتھ اپنی دوستی کو برقرار رکھتی ہیں تو بی جے پی کو ٹاملناڈو میں قدم جمانے کا موقع نہیں ملے گا۔ عدالت کے اس فیصلہ سے بعض گوشوں میں یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ بی جے پی۔ڈی ایم کے اتحاد کے معاہدے کے تحت یہ فیصلہ منظر عام پر آیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں چینائی پہنچ کر کروناندھی کی عیادت کی تھی۔ اس پس منظر میں عدالت کے فیصلہ کو مختلف زاویوں سے دیکھا جارہا ہے۔ آگے صورتحال چاہے کچھ ہو تو گجرات اور ہماچل میں کامیابی کے جشن پر اس فیصلہ نے پانی پھیر دیا ہے۔ اگر یہی فیصلہ اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران آتا تو نتائج یقیناً مختلف ہوتے۔
لوک سبھا کا سرمائی اجلاس گجرات اور ہماچل کے نتائج پر بی جے پی کو جشن منانے کا موقع فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوا کیونکہ کانگریس زیر قیادت اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم سے انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر منموہن سنگھ پر لگائے گئے الزامات پر معذرت خواہی کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ پہلے دن سے ہی اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی نہیں چل سکی اور تعطل کی صورتحال برقرار ہے۔ گجرات کی انتخابی مہم کے الزامات کی معذرت کے مطالبہ کے دوران اب 2G اسکام فیصلہ نے کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے۔ اسکام کے سلسلہ میں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ پر عائد کردہ الزامات کے لئے بھی معذرت کا مطالبہ کارروائی میں رکاوٹ کی اہم وجہ بن چکا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے صدرنشین وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ایوان کے باہر کہی گئی باتوں پر ایوان میں معذرت خواہی نہیں کی جاسکتی۔ شائد ان کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ میں ایوان کے باہر معذرت خواہی کی گنجائش موجود ہے۔ گجرات میں کامیابی کیلئے مودی نے انتخابی مہم کو نچلی سطح تک پہنچادیا۔ منموہن سنگھ اور حامد انصاری جیسی شخصیتوں کو ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ بی جے پی کو ہرانے کے لئے پاکستان سے ہاتھ ملانے کا سنگین الزام مودی نے عائد کیا۔ لیکن پاکستان سے دوستی اور نواز شریف سے ہمدردی میں مودی سے بڑھ کر کوئی نہیں، اس کا مظاہرہ دنیا نے دیکھا۔ مودی کی حلف برداری نواز شریف کے بغیر مکمل نہیں ہوئی اور مودی بن بلائے مہمان کی طرح نواز شریف سے ملنے لاہور پہنچ گئے۔ ملک کے باہر ہونے والی ہر بین الاقوامی کانفرنس میں مودی نے اپنے جگری دوست کو لپک کر گلے لگایا اور پھر منموہن سنگھ پر پاکستان سے ملی بھگت کا الزام ۔ اسی دوران گجرات اور ہماچل کے نتائج سے کانگریس میں ملی جلی کیفیت کے دوران راہول گاندھی نے پارٹی کی صدارت سنبھالی۔ گجرات مہم میں راہول نے جس طرح اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ، وہ 2019 ء میں مودی کے لئے زبردست چیالنج بن کر ابھرے ہیں۔ گجرات میں حقیقی کامیابی تو کانگریس کی ہوئی، اگر سیکولر جماعتوں کے درمیان ووٹ تقسیم نہ ہوتے تو اقتدار کانگریس کا ہوتا۔ بی ایس پی ، این سی پی اور سماج وادی پارٹی نے تقریباً 15 حلقوں میں کانگریس کی کامیابی میں رکاوٹ پیدا کی۔ یہ نتائج آئندہ عام انتخابات میں کانگریس کے شاندار مظاہرہ کی خوشخبری ہے۔ منور رانا نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے ؎
کل کوئی اور نظر آئے گا اس مسند پر
تیرے حصہ میں یہ ہر بار نہیں آئے گی