کلواکرتی /12 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کلواکرتی میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں ۔ کانگریس ، تلگودیشم ، ٹی آر ایس ، مجلس اتحادالمسلمین ، بی جے پی ، آزاد امیدوار اپنی اپنی جانب اس علاقے کے 20 وارڈس میں اپنے ا پنے امیدوار کھڑا کر رہے ہیں جبکہ چیرپرسن کی نشست بی سی جنرل کیلئے مختص ہے ۔ جبکہ کانگریس کی جانب سے سری سیلم ٹی آر ایس سے بی آنند کمار اور وائی ایس آر کانگریس کی جانب سے محمد شاہد جبکہ مجلس اتحادالمسلمین نے دوسرے امیدوار بی آنند کمار سے مفاہمت کی اطلاعات مل رہی ہیں ۔ بہرکیف ہر پارٹی اپنی جانب سے جی جان سے کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ان کے امیدوار کامیاب ہوں جہاں پر ہر ایک طبقہ اپنی نمائندگی کیلئے بھرپور کوشش کر رہا ہے وہیں پر اس حلقہ کے تقریباً 10 وارڈس ایسے ہیں جہاں پر مسلمان بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں ۔ جبکہ 6 حلقہ کو صرف اور صرف مسلمانوں کے ووٹ سے وہاں کا امیدوار آسانی سے جیت سکتا ہے
لیکن افسوس کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایک حلقہ سے دو دو تین تین مسلم امیدوار میدان میں اتر رہے ہیں ۔ لیکن اگر تمام مسلم قائدین ایک جٹ ہوکر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے انتخاب میں حصہ لیں تو اس مرتبہ کم از کم 5 مسلم امیدوار بہ آسانی کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ جہاں پر ن مائندہ ایک جٹ ہوں وہیں پر رائے دہندے بھی ایک جٹ ہوکر سونچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں تو قوی امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلم امیدوار کو کونسل میں بھیج سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جبکہ وائی ایس آر نے ایک مسلم قائد کو چیرمین نامزد کیا ہے تو ہماری سوجھ بوجھ اور حکمت عملی سے اتحاد کے ذریعہ ڈال گئے ووٹ سے قوی امید ہے کہ پہلی مرتربہ جبکہ ہمارا علاقہ بلدیہ میں تبدیل ہوا یہاں کا چیرمین مسلمان ہوگا بہرکیف مسلمانوں کو اپنی ووٹ کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہوئے ایک ساتھ متحد ہوکر اگر ووٹ کا استعمال کریں تو بہت ہی ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں ہماری طاقت کا اندازہ سب ہی کو ہوگا اور وہی ہوگا جو ہم چاہیں گیں وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جہاں مسلمانوں نے علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام میں بھرپور کوشش کی اب جبکہ علحدہ ریاست کا قیام عمل میں آیا ہے تو اور بھی بہت سارے مسائل ، ریزرویشن ، وقف املاک کا تحفظ جائیدادوں میں اضافہ و دیگر مسائل کیلئے ہمارا ایک جٹ ہونا بے حد ضروری ہے ۔