کلب مقابلوں کے کامیاب ترین کھلاڑیوں پر ورلڈ کپ میں دباؤ

ریوڈی جنیریو۔ 10؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ وہ کھلاڑی جو مکمل سال پریمئر لیگ، اسپینش لیگ اور چمپئنز لیگ میں گولس کے انبار لگاتے نہیں تھکتے، وہ اکثر ورلڈ کپ میں کھوٹے سکّے ثابت ہوجاتے ہیں۔ کرسٹانیو رونالڈو، لیونل میسی اور وین رونی کے بارے میں یہی رائے قائم ہوچکی تھی اور یہی رائے برقرار بھی ہے۔ ان تینوں کی غیر معمولی صلاحیتوں سے بھی کسی کو انکار نہیں، لیکن گزشتہ ورلڈ کپ میں نگاہیں ان تینوں کو ڈھونڈتی رہ گئیں۔ برازیل میں ہونے والا ورلڈ کپ رونالڈو، میسی اور رونی کا تیسرا عالمی کپ ہے اور ہر کوئی یہی توقع کررہا ہے کہ یہ تینوں اس مرتبہ ماضی کی مایوس کن مظاہروں کا ازالہ کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اس مرتبہ عالمی کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں مذکورہ تینوں کھلاڑی اپنی ٹیموں کے لیے قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ رونی نے سات گول کئے ہیں۔ رونالڈو کے گول کی تعداد آٹھ ہے جب کہ میسی نے دس گول داغے ہیں۔ کرسٹیانو رونالڈو اس وقت بجا طور پر دنیا کے مقبول ترین فٹبالر کے درجے پر فائز ہیں،

لیکن ان کی تمام تر کامیابیاں پرتگال سے زیادہ رئیل میڈرڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے رہی ہیں۔ رونالڈو پہلی مرتبہ 2006ء کے عالمی کپ میں کھیلے لیکن اس میں انھوں نے صرف ایک گول کیا اور وہ بھی ایران کے خلاف بنا تھا۔چار سال بعد جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے عالمی کپ میں بھی وہ صرف ایک گول کرنے میں کامیاب ہوسکے جو شمالی کوریا کے خلاف تھا۔ رونالڈو نے ان دو عالمی کپ میں مجموعی طور پر 754 منٹ میدان میں گزارے ہیں جو وین رونی کے 595 منٹ اور لیونل میسی کے 571 منٹ سے زیادہ ہیں۔ وین رونی نے بھی 2006ء اور 2010ء کے عالمی کپ میں انگلینڈ کی نمائندگی کی ہے، لیکن وہ ایک بھی مرتبہ گیند کو گول کی شکل نہ دیکھی۔ 2006ء کے عالمی کپ میں پرتگال کے خلاف میچ میں رونی کو سرخ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ اس تنازعہ میں کرسٹیانو رونالڈو بھی شریک ہوگئے تھے جس پر انھیں مانچسٹر یونائٹیڈ کے شائقین کی ناراضی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیونل میسی نے جب 2006ء کا عالمی کپ کھیلا تھا اس وقت وہ صرف 18 سال کے تھے۔

گروپ میچوں میں چند مواقع ملنے کے بعد انھوں نے کوارٹر فائنل میں جرمنی کے خلاف ارجنٹینا کی شکست بینچ پر بیٹھ کر دیکھی تھی۔ کچھ لوگ میراڈونا پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ میسی کا عروج دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ارجنٹینا میں ان کی جو مقبولیت قائم ہے، وہ متاثر ہو۔ 2010ء میں وہ اپنے عروج پر تھے۔ وہ فیفا پلیئر آف دی ایئر کے ایوارڈ کے مضبوط دعویدار کے طور پر جنوبی افریقہ پہنچے تھے، لیکن اُس وقت کے کوچ میراڈونا نے انھیں کھل کر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں دیا تھا اور ارجنٹینا اس موقع پر کوارٹر فائنل میں جرمنی کے خلاف ٹورنمنٹ سے باہر ہوا تھا۔ میراڈونا نے اس میچ میں میسی کو کھیلنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ میسی اس عالمی کپ میں صرف ایک گول کرسکے تھے جو سربیا کے خلاف تھا۔ 1978ء کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑی آرڈیلس نے کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس مرتبہ میسی کچھ کر دکھانے میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ موجودہ سیزن ان کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا ہے

اور یہی مظاہرے انھیں اچھی کارکردگی کے لئے راہ ہموار کریں گے۔ پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے رواں سیزن رئیل میڈرڈ کے لئے نہ صرف غیر معمولی مظاہرہ کیا بلکہ وہ اس مرتبہ ’فیفا پلیئر آف دی ایر‘ کا ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں پرتگال کی تمام تر ورلڈ کپ اُمیدیں اپنے کپتان رونالڈو سے وابستہ ہیں، حالانکہ خود رونالڈو نے کہا کہ ان کی ٹیم پرتگال کو ٹورنمنٹ کی مضبوط دعویداروں میں شمار نہیں کیا گیا ہے جو ٹیم کے لئے اس تناظر میں بہتر ہے کہ کھلاڑیوں پر توقعات کا دباؤ نہیں رہے گا اور وہ بہتر مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ کلب سطح پر میزبان ٹیم برازیل کے اُبھرتے نوجوان کھلاڑی نیمر بھی ان دنوں شہ سرخیوں میں رہے، جیسا کہ لیونل میسی کے کلب بارسیلونا میں ان کی شمولیت کافی اہم موضوع رہا۔ برازیل کے لئے نیمر کے مظاہرے اہمیت کے حامل ہوں گے اور خود نیمر نے بھی کہا ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ میں بہتر مظاہرے کے ذریعہ اپنی شہرت کو مستحکم کے خواہاں ہیں۔ ورلڈ کپ میں شائقین کی نظریں ان کھلاڑیوں کے بہتر مظاہروں پر مرکوز ہے۔