سری نگر 8اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں پیر کے روز بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر مکمل اور غیرمعمولی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ۔ پیر کو وادی کے بیشتر حصوں بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر اور ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکیں سنسان نظر آئیں۔ جموں وکشمیر سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں اور آٹو رکشے بھی سڑکوں سے غائب رہیں۔ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔ انتظامیہ کے دعوے کہ وادی میں کہیں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، کے برخلاف سری نگر کے پائین شہر میں پیر کو کرفیو جیسی پابندیاں نظر آئیں۔ریاستی پولیس کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ‘سری نگر میں کہیں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم احتیاطی طورپر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ‘۔ تاہم پائین شہر کی زمینی صورتحال پولیس کے دعوے کے برخلاف نظر آئی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے پائین شہر کے مختلف حصوں میں رابطہ سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کیا ہوا پایا۔مزاحمتی قیادت نے چند روز قبل جاری کئے گئے ایک بیان میں ریاست میں میونسپل اور پنچایتی انتخابات کے آغاز پر8 اکتوبر کو پورے جموں وکشمیر میں مکمل احتجاجی ہڑتال کی کال دی تھی۔ مزاحمتی قیادت نے 8 اکتوبرکو پورے جموں وکشمیر جبکہ بلدیاتی انتخابات کی باقی تاریخوں یعنی10 اکتوبر، 13 اکتوبر اور16 اکتوبر کو جن جن علاقوں میں میونسپل انتخابات ہو رہے ہیں اس دن اُن اُن علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کرنے اور ان انتخابات سے عملاً مکمل طور لا تعلقی کا اظہار کرنے کی کال دے رکھی ہے ۔مزاحمتی قائدین نے الزام لگایا ہے کہ ان انتخابات کی آڑ میں یہاں پہلے سے ہی لاکھوں کی تعداد میں موجود فورسز میں مزید اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کے اس طریقہ کار سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکمران طبقہ پہلے سے ہی موجود پولیس و فورسز میں اضافے کے ذریعے لوگوں کو طاقت اور تشدد کے بل پران انتخابات کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔