6 گھنٹے برقی سربراہی کے وعدہ کی ستائش، کلوا کرتی میں سابق رکن اسمبلی کشٹا ریڈی کا بیان
کلوا کرتی /21 دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کلوا کرتی میں آج ضلع کنوینر وائی ایس آر کانگریس و سابق ایم ایل اے ایڈما کشٹا ریڈی نے اپنے مکان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کسانوں کو 6 گھنٹے برقی سربراہی، جو 3.3 گھنٹے پر مشتمل ہے، وعدہ کیا ہے وہ بہت ہی مستحسن اقدام ہے، جس کا ہم دل کی گہرائیوں سے حکومت کو مبارکباد دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس قحط سالی سے متاثرہ ضلع کو دو اہم وزارتیں دینے پر بھی ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ ضلع محبوب نگر سے سی لکشما ریڈی کو وزیر برقی اور جوپلی کرشنا راؤ کو وزیر صنعت بنایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگر کسی چیف منسٹر نے سب سے پہلے کسانوں کے بارے میں فکر کی ہے تو وہ این ٹی آر ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے کسانوں کو برقی اور دوائیں سربراہ کی تھیں، جس کے بعد وائی ایس راج شیکھر ریڈی ہیں، جنھوں نے مسلسل سات گھنٹے بغیر معاوضہ کے کسانوں کو برقی دی تھی اور کسانوں کے بقایہ جات کو معاف کیا تھا۔ اب جب کہ تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں آچکا ہے تو جہاں ٹی آر ایس نے اقتدار حاصل کیا ہے، اسے ایک اچھا نام حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دے۔ آج اس کے وزیر کا یہ فیصلہ دوپہر میں 3 گھنٹے او رات میں 3 گھنٹے بلاوقفہ کسانوں کو برقی سربراہ کی جائے گی، قابل تحسین اقدام ہے۔ انھوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں کے مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز کرے، کیونکہ اس ضلع میں کسان صرف بورویل اور برقی پر انحصار کرتے ہوئے زراعت کرتے ہیں، لہذا برقی سربراہی کو یقینی بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں پر 132/11 اور 33/11 کے وی سب اسٹیشن مکمل ہوکر افتتاح کے انتظار میں ہیں، جلد سے جلد چالو کرکے کسانوں کو فائدہ پہنچایا جائے اور جہاں پر لوڈ کی شکایت ہے وہاں جلد سے جلد برقی ٹرانسفارمرس کا اضافہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں جہاں جہاں بھی 33/11 کے وی سب اسٹیشن کی منظوری ہوچکی ہے، وہاں جلد سے جلد کام شروع کیا جائے۔ اس موقع پر انھوں نے ماڈگل کا حوالہ دیا، جہاں پر 32/11 کے وی سب اسٹیشن کی منظوری ہوکر تین سال کا عرصہ گزرچکا ہے اور زمین کا سروے بھی ہوچکا ہے، لیکن اب تک وہاں پر کام شروع نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کلوا کرتی مستقر پر 400 کے وی سب اسٹیشن کا قیام عمل میں لاکر کسانوں کا ساتھ دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں کے کسان برقی پول نہ ہونے کے سبب لکڑیوں کے ذریعہ برقی حاصل کر رہے ہیں، جس کے سبب کئی حادثات ہو رہے ہیں اور کسان برقی شاک سے ہلاک ہو رہے ہیں، جلد سے جلد وہاں برقی پول نصب کئے جائیں۔ انھوں نے بتایا کہ کسانوں کو اگر کسی حکومت میں سب سے زیادہ پریشانی و تکالیف اٹھانی پڑی ہے تو وہ چندرا بابو نائیڈو کا دور تھا، جس میں کئی کسانوں نے قرض اور ناکافی برقی سربراہی کے سبب خودکشیاں کی تھیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ماڈل کسان یادگیری ریڈی، شیکھر اور دیگر بھی موجود تھے۔