کریم نگر کو اسمارٹ سٹی بنانے کیلئے ہر ممکنہ جدوجہد

کریم نگر۔/7 جنوری ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) علحدہ تلنگانہ ریاست کے حصول کے لئے جس طرح مسلسل جدوجہد اور قربانیاں دی گئی ہیں تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ، اب اسی طرز پر ہمیں متحدہ طور پر اس کی تعمیر نو کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے یہ بات کہی۔ انہوں نے یہاں پیر کی شام کریم نگر پریس بھون میں میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کریم نگر کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرتا رہوں گا۔ پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو قومی سطح کا درجہ دینے کیلئے مسلسل جدوجہد کے ساتھ کے سی آر نے نئی ریلوے لائن کی تعمیر کیلئے منوہرآباد کتہ پلی کا جو منصوبہ مرکزی محکمہ ریلوے کو منظوری کیلئے پیش کیا تھا اس کی منظوری چند شرائط کے ساتھ مل چکی ہے اس کی مکمل تعمیر کیلئے کوشش کروں گا۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی غفلت و تساہل کی وجہ سے ریلوے لائن کے کاموں میں پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر سے بات چیت اور توجہ دہانی کی وجہ سے 18نومبر 2014 کو منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ونود کمار نے کہا کہ پرانہیتا چیوڑلہ کو قومی سطح کا درجہ دلانے کیلئے وہ بھرپور کوشش کریں گے۔انہوں نے کہاکہ راجستھان مہاراشٹرا سے حیدرآباد کو روزانہ 200 لاریوں میں بھیڑ بکریاں لائی جارہی ہیں یہاں گوشت کی مانگ کے حساب سے پیداوار نہیں ہے اس سلسلہ میں بھیڑ بکریوں کی افزائش کے لئے ایک پائلٹ پراجکٹ کی شروعات کی جائے گی۔ حیدرآباد کو روزانہ دیگر مقامات سے ایک لاکھ لیٹر دودھ آرہا ہے، کریم نگر ڈیری میں فی الحال ایک لاکھ دس ہزار لیٹر دودھ کی پیداوار ہے

جس سے55ہزار کسانوں کو روزگار مل رہا ہے۔ کریم نگر ڈیری میں دودھ کی پیداوار میں اضافہ کے لئے نبارڈ کے ذریعہ کسانوں کو قرض فراہم کرواتے ہوئے کریم نگر ڈیری میں دو لاکھ لیٹر دودھ کی پیداوار کروائی جائے گی۔ مرکز کے ذریعہ کریم نگر کو اسمارٹ سٹی کے ترقی دی جائے گی، تاحال میئر اور کمشنر کو پراجکٹ رپورٹ تیار کرنے کا وہ مشورہ دے چکے ہیں۔ مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ کریم نگر کو اسمارٹ سٹی کے ضابطہ میں شامل کروایا جائے گا۔ فصلوں کی کاشت کاری کے فروغ کے لئے منصوبہ عمل سے آم اور موز کے درختوں کی وسیع پیمانے پر شجرکاری کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جولاہوں، بنکروں کی معاشی بہتری کیلئے ٹکسٹائیل پارک کرگھوں کپڑے کی تیاری کیلئے عصری مشینوں اور معیاری کپڑے کی تیاری کے لئے تربیت اور مارکٹ میں مانگ کے مطابق تیاری کرکے مارکٹنگ کی سہولت کی فراہمی کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ ضلع کو قومی شاہراہوں سے جوڑے جانے کیلئے سڑکوں کی تعمیر 2لائن سے 4لائن کی ترقی کا بھی منصوبہ عمل ہے۔ شاتاوہانہ یونیورسٹی میں کوئی ایک ایسا نصاب شروع کئے جانے کا منصوبہ ہے

جس کے لئے عنقریب وائس چانسلر سے مشورہ کیا جائے گا۔ضلع کیلئے ایک میڈیکل کالج کی منظوری ملنے کو ہے وہ رام گنڈم یا کریم نگر میں قائم کرنے کیلئے دونوں مقامات کے ارکان اسمبلی کے درمیان کچھ تنازعہ ہے۔ کالج جو کہ کریم نگر میں قائم کئے جانے کا قوی امکان ہے۔کریم نگر میں ندنور کے پاس گیس پر مبنی برقی پراجکٹ کی کوشش جاری ہے۔ کول پر مبنی برقی پراجکٹ سے ماحولیات پر اثر پڑے گا۔ اس لئے اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ پاسپورٹ سنٹر کی خدمات کے پروگرام پر عنقریب عمل ہوگا۔ فرنیچر اور ملازمین کی بھرتی کیلئے کوشش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کی قیادت میں ضلع کریم نگر کا اہم رول رہا ہے اور اس ضلع کی تاریخ دانشوروں، قائدین، انقلابی جدوجہد سے بھری پڑی ہے اس لئے ٹی آر ایس کے قیام کے بعد پہلا بڑا جلسہ کریم نگر میں منعقد کیا گیا تھا۔2006کے ضمنی انتخابات میں کے سی آر کی تائید ساری ریاست میں ایک مثال تھی اور بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی گئی۔2014ء کے چناؤ میں پورے تلنگانہ میں تائید ہوئی اور یہاں سے 11 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے جو مثالی نمائندگی کررہے ہیں۔پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی بوڈگے شوبھا، ایرا شنکر ریڈی، ٹی یو ڈبلیو جے، آئی جے یو ضلع سکریٹری جی سرینواس، شرت راؤ وغیرہ نے شرکت کی۔