کریم نگر۔/15مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ماہ اپریل کی 6اور 8 تاریخوں میں دو مرحلوں میں چناؤ کروائے جانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دی گئی تھی جس پر پچھلے چار دنوں سے مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے انتخابات کو ملتوی کئے جانے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ اب اس کی وجہ سے سیاسی بے روزگار چناؤ میدان میں آنے کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کرچکے ہیں۔ ضلع بھر میں یکے بعد دیگرے تین چناؤ ہورہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن، زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سیز، پھر عام انتخابات یعنی اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔1285 افراد کو انتخاب کی وجہ سے عہدے فراہم ہوں گے۔ صلع میں دو کارپوریشن کے 100ڈیویژن کارپوریٹرس اور دو میئر226وارڈس، 9چیرمین،817 ایم پی ٹیز اور 57 زیڈ پی ٹیز 37، ایم پی پی ایک زیڈ پی چیرمین 13اسمبلی ارکان، 3ایم پی ارکان، اس طرح سے 1285 منتخب قائدین ہوں گے۔ ان تمام عہدوں پر اندرون دو ماہ کارروائی ہوگی جس کی وجہ سے سیاسی قائدین کی نیندیں اُڑ گئی ہیں۔ اب چھوٹے بڑے عہدوں پر قبضہ کیلئے دیہی سطح سے شہری علاقوں تک سیاسی ماحول میں گرمی پیدا ہوچکی ہے، جدھر دیکھو چناؤ میں حصہ لینے کے بارے میں گفتگو اور ووٹوں کے حصول کی تدبیریں کی جارہی ہیں۔ چناؤ کے سلسلہ میں اثر و رسوخ رکھنے والے قائدین کے گھر پر کارکنوں کی بھیڑ ہے۔ ٹیکٹ کے حصول کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر کسی نہ کسی طرح پارٹی کی تائید کے لئے امیدوار دباؤ بنائے رکھنے کی کوشش میں ہیں۔میونسپل کارپوریشن میں چناؤ کے پہلے مرحلہ کا اختتام ہوچکا ہے اور اس کی نامزدگی ہوچکی ہے۔ اب بی فارم کے لئے دوڑ دھوپ جاری ہے۔ ایک پارٹی سے نہیں تو دوسری پارٹی کی طرف بھی جانے کیلئے بعض لوگ اس طرح کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ منڈل پریشد اور ضلع پریشد نشستوں کیلئے مواضعات میں پوری طرح سے سیاسی ماحول پیدا ہوچکا ہے۔