کریم نگر میں زرعی نقصان کی پابجائی میں کوتاہی

کریم نگر۔/4فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آفات سماوی ناسازگار موسم کی وجہ سے فصلوں کا نقصان اٹھانے والے کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے حکومت نے جو رقم جاری کی تھی اس کی ضلع انتظامیہ کی جانب سے تقسیم عمل میں نہیں لائی جانے کی وجہ سے دوبارہ سرکاری خزانہ میں لوٹ جائے گی اس طرح کہا جارہا ہے۔ قرض کے بوجھ سے پریشان حال کسانوں کو قرض معافی پر صحیح عمل آوری نہیں ہوئی اس طرح 15کروڑ روپئے حکومت کے خزانہ میں جمع ہوجائیں گے۔ بتایا گیا کہ اپریل2011تا 2014 قحط، خشک سالی کی صورتحال، زیادہ بارش ، ژالہ باری کی وجہ سے ضلع میں زرعی شعبہ کے کسانوں کو 105.95 کروڑ روپئے سبسیڈی حکومت نے جاری کی تھی جبکہ 2کرور 97لاکھ 727 افراد کو نقصان کے معاوضہ کی منظوری دی گئی تاحال 2کروڑ 89لاکھ 257کسانوں کے بینک کھاتوں میں سبسیڈی جمع کردی گئی ہے جبکہ 8478 کسانوں کی سبسیڈی رقم کو مختلف وجوہات کی بناء بینکوں کی جانب سے واپس کردیا گیا اور ابھی تک ان کسانوں کے کھاتہ میں رقم جمع نہیں ہوئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 2.01 کروڑ سے سبسیڈی رقم کو مختلف وجوہات کی بناء بینکوں سے واپس کردیا گیا اور اس کو بینک میں جمع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کسان پریشان ہیں۔ ضلع میں اگسٹ 2014 سے فصلوں کیلئے کسانوں کے قرض معافی کے تحت حکومت نے 380203 کسانوں کی نشاندہی کی تھی اور 1694کروڑ قرض معافی کا اعلان کیا تھا۔ پہلے مرحلے کے طور پر25 فیصد یعنی 423.56 کروڑ قرض معافی رقم کی اجرائی عمل میں لائی گئی تھی تاحال 415 کروڑ قرض معافی رقم 373505 کسانوں کے درمیان تقسیم کیا گیا، ان کسانوں نے اپنا زیور بینک میں رکھ کر قرض لیا تھا جبکہ ان میں کئی کسان اس مدت کے دوران فوت ہوگئے اور کئی کسان بیرون ممالک روانہ ہوگئے اور اس طرح 1448 کسانوں کو 3.76 کروڑ قرض معافی رقم اور مزید 3.9 کروڑ روپئے قرض معافی رقم دوبارہ حکومت کے کھاتہ میں واپس چلی جائے گی۔