دوبئی ۔ 7 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )نیوزی لینڈ ویمنس کرکٹ کی آل راؤنڈر نکولا براؤن کی دانست میں کرکٹ سے پیسہ ، شہرت تو خودبخود کمائے جاسکتے ہیں لیکن اس کھیل کے تعلق سے انھیں جو مختلف پہلو سمجھ آیا ، وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ زندگی جینا بھی سیکھا جاسکتا ہے ۔ شائقین کرکٹ کو یہ جان کر شائد تعجب ہو کہ نیوزی لینڈ بنیادی طورپر رگبی کیلئے شہرت رکھتا ہے جہاں کرکٹ کا بلاشبہ دوسرا درجہ ہے۔ نکولا نے حال میں ویب سائیٹ ’کرک انفو‘ کو خصوصی انٹرویو دیا ، جس میں انھوں نے کرکٹ کے ساتھ اپنی زندگی سے جڑے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ نیوزی لینڈ میں کرکٹ کا پروفیشنل کیرئیر کے طورپر انتخاب انھوں نے کیوں کر کیا ؟، انھوں نے جواب دیا کہ نیوزی لینڈ میں لڑکپن اور جوانی کے مراحل میں یوں تو رگبی چھایا رہتا ہے لیکن کرکٹ ، نٹ بال ، ٹینس ، فٹبال بھی خاطر خواہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ وہ ایک مرتبہ یوں ہی کرکٹ کھیل رہی تھیں کہ ناردرن ڈسٹرکٹس کرکٹ اسوسی ایشن کے پیاٹ مالکم نے انھیں دیکھا جو انھیں اسکول اور کالج کے دور سے جانتے تھے۔
مالکم نے انھیں کرکٹ کیلئے منتخب کرلیا اور بھرپور حوصلہ افزائی کی ۔ پھر کالج کی تعلیم کے اختتام تک وہ نیوزی لینڈ کی نیشنل ٹیم کا حصہ بن چکی تھیں۔ 31 سالہ نکولا جو نیوزی لینڈ کیلئے دو ٹسٹ ، 125 او ڈی آئیز اور 54 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلس کھیل چکی ہیں ، اُن کا کہنا ہے کہ کرکٹ سے شائد دیگر کھیلوں کے مقابل زندگی میں زیادہ کچھ سیکھنے کا اس لئے موقع ملتا ہے کیونکہ اس میدان میں کھلاڑی کو بالعموم اچھے دنوں سے زیادہ خراب دنوں کا سامنا رہتا ہے ۔ کیوی آل راؤنڈر جنھوں نے 2002 ء میں اپنے انٹرنیشنل کیرئیر کا آسٹریلیا کیخلاف آغاز کیا تھا انھوں نے آل راؤنڈ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی ٹیم کو کئی میچس جتوائے ۔ جب اُن سے سوال کیا گیا کہ نیوزی لینڈ میں مینس ڈومیسٹک کے مقابل ویمنس کرکٹ کا کوئی خاص وجود نہیں ، انھوں نے کہاکہ کسی بھی کھیل میں ویمنس کامپٹیشن بتدریج زور پکڑتا ہے یہی کچھ حال کیوی ویمنس کرکٹ کا بھی ہے ۔