ضمیراحمد خان اور یوٹی قادر عوام کے قائد اور مقبول لیڈر نہیں:تنویر احمد سیٹھ
میں لیڈر نہیں سماج سیوک ہوں
تنویر سیٹھ کو ضمیر احمد خان کا چیلنج
بنگلور۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں میں قائدین کی ویسے بھی کمی ہے ، اور جن لیڈرون کو چن کر لایا جاتاہے، اب ان میں سے کچھ لیڈر آپس میں ہی کھینچاتانی کرنے لگ جائیں اور قوم کے مفاد کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنی ناک اونچی کرنے کے چکر میں لفظی جھڑپ میں پڑ جائیں تو عوام کے لئے یہ لیڈر تماشہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کا یہاں ایک موقع رکن اسمبلی جناب تنویر سیٹھ نے میڈیا کو دے دیاہے، ایک بیان میں انہوں نے جناب یوٹی قادر اور وزیرِ برائے اغذیہ جناب ضمیر احمد خان کو وزارت کے عہدے دئے جانے پر اعتراض جتاتے ہوئے کہاتھا کہ وہ عوامی مقبول لیڈر یا قائدانہ صلاحیت رکھنے والے لیڈر نہیں ہے، اسی کا جواب دیتے ہوئے آج جناب وزیر احمد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تنویرسیٹھ کو چیلنج کیا ہے کہ چلئے دیکھتے ہیں کہ کون عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہے ، میں کوئی لیڈر نہیں بلکہ ایک سماج سیوک ہوں، ، تنویرسیٹھ کے حلقہ این آر محلے میں وہ بھی جائیں اور میں بھی جاتا ہوں ، دیکھتا ہوں کہ کس کے پاس کتنے لوگ جمع ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وقت اور دن بھی وہی طئے کریں،انہوں نے تنویر سیٹھ کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پھر پتہ چلے گاکہ کون کتنا مقبول ہے۔ انہوں نے وزارت کے عہدہ پر اشکال کئے جانے پر کہا کہ راہول گاندھی میرے کوئی رشتہ دار نہیں،ہائی کمان کی اپنی ایک ٹیم ہوتی ہے ان کے سروے میں جو بات سامنے آتی ہے اسی کے مطابق فیصلہ لیتے ہیں۔ مجھے وزارت ملنے پر ممکن ہے کچھ سینئر لیڈران کو نا اْمید ہوئے ہوں، ظاہرسی بات ہے کہ جو لوگ سالہا سال وزارت کے عہدے پر رہے ہوں ،ان کو وزارت نہ ملنے پر تکلیف تو ہوگی۔ایک طرف ملک بھر میں مسلمانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب مٹھی بھر مسلم قائدین ذاتی مفاد پرستی کیلئے ایک دوسرے کی پگڑی اچھالتے جارہے ہیں ۔