کرناٹک میں مردم شماری،ترقیاتی منصوبہ سازی سے مربوط

بیدر 16 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی اقلیتی کمیشن کی چیر مین بلقیس بانو نے ریاست کے ان اقلیتوں سے جو دیگر پسماندہ طبقات کا حصہ ہیں عنقریب ریاست بھر میں کرائے جارہے پسماندہ طبقات کے سروے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے ۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں اقلیتوں کی آبادی 15.69 فیصد ہے ۔ آبادی کے اتنے بڑے حصہ کو اس سروے میں یکسر نظر انداز ہونے نہیں دیا جانا چاہئے ۔ بلکہ اقلیتوں میں شامل دیگر پسماندہ طبقات کو چاہئے کہ اپنے پیشہ اور اپنے طبقے سے متعلق تمام تفصیلات سروے کرنے والوں کو پیش کریں اس سلسلے میں اقلیتی کمیشن کی طرف سے عوام میں بیداری لانے کی پہل کی جاچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرناٹک 1931 کے بعد پہلی بار اس سال پسماندہ طبقات کا ذات پات کی بنیاد پر سروے کا کام شروع کروایا ہے ۔ڈسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والا سروے ہوسکتا ہے کہ چھ ماہ کے عرصے تک جاری رہے جس کے بعد اس سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر آنے والے دنوں میں اقلیتوں ،پسماندہ طبقات سمیت ریاست کے دیگر عوام کیلئے حکومت کی منصبوہ سازی کی جائے گی ۔ اس صورتحال میں اقلیتی کمیشن کی یہی کوشش ہوگی کہ اقلیتوں کاس روے مکمل ہوا اور اس کے ذریعہ یکجا ہونے والی تمام تفصیلات بالکل درست رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے تمام اضلاع کے محکمہ اقلیتی بہبود کے افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ پسماندہ طبقات کے سروے میں اقلیتوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا جائے ۔ انہوں نے ریاست بھر کے رضا کار اداروں کو آواز دی کہ ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور کوشش کریں کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرنے کیلئے آنے والے افراد سے بھر پور تعاون کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اقلیتی کمیسن کو سیول عدالت کے اختیارات دینے کے سلسلے میں انہو ںنے وزیر برائے اقلیتی بہبود قمر الاسلام سے بات چیت کی ہے ۔ اس سے وزیر اعلی سدرامیا کو بھی آگاہ کرایا گیا ہے ۔ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں اقلیتوں کمیشنوں کو سیول عدالت کے احتیارات حاصل ہیں خاص طور پر تملناڈو آندھرا پردیش کیرالا دہلی اتر پردیش بہار راجسھتان،چھتیس گڑھ، آسام ،مغربی بنگال اور منی پور جیسی ریاستوںمیں اقلیتی کمیشن کو قانونی اختیارات دیئے گئے ہیں جبکہ کرناٹک میںیہ اختیار ابھی نہیں دیا گیا ہے۔وزیر اعلی سدرامیا نے یقین دلایا ہے کہ عنقریب کمیشن کو سیول عدالت کے اختیارات دیئے جائیںگے ۔ انہو ںنے کہا کہ کمیشن اسبات کی بھی کوشش میںہے کہ مختلف مقدمات میں پھنسے نوجوان جن کے خلاف کافی عرصے سے پولیس ثبوث اکھٹا کرنے میں ناکام رہی ہے ان کے مقدمات کا جائزہلیتے ہوئے ان میں بے قصوروں کو رہائی کو یقینی بنایا جائے ۔ اس کیلئے کمیشن کی طرف سے حکومت کو یہ سفارش کی جائے گی کہ اقلیتی کمیشن میں ایسے معامات سے نمٹنے کیلئے ایک مخصوص شعبہ قائم کیاجائے ۔ مسلمانوں کو ریاست میں دیئے گئے چار فیصد ریزرویش کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے کمیشنکی پہل کا تذکرہ کرتے ہوئے محترمہ بلقیس بانو نے کہا کہ فی الوقت یہ ریزرویشن صرف سی ای ٹی امتحان کی حد تک دیا جارہا ہے ۔ سرکاری ملازمتوں یونیورسٹیوں میں داخلوں وغیرہ میں اس ریزرویشن پالیسی کو صریح طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ آنے والے دنوں میں کمیشن یہ یقینی بنائے گا کہ تمام سرکاری محکموں میں اقلیتوں کو ان کے جائزہ چار فیصد ریزرویشن سے محروم نہ کیا جائے ۔ اسی طرح تمام سرکاری محکموں کے منصوبوں میں اقلیتوں کو 15 فیصد حصہ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت ملنا چاہئے وہ بھی یقینی طور پر مہیا کرانے کی کوشش کی جائے گی ۔ خاص طور پر ریاست کی یونیورسٹیوں میں اقلیتوں کے ریزرویشن کو نظر انداز کئے جانے کی انہو ںنے مذکور کی اور کہا کہ اقلیتی کمیشن کی طرف سے آنیو الے دنوں میں یہ ہدایات جاری کی جائیں گی کہ کسی بھی حال میں چار فیصد ریزرویشن کو نظر انداز نہ کیا جائے اس کے ساتھ ہی میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے مسلم نمائندوں کے ساتھ بھی پورا انصاف کیا جائے ۔ میرٹ کی بنیاد پر انتخاب ہونے والوں کو جوڑ کر چار فیصد ریزرویشن قرار دیا جارہا ہے جو غلط ہے ۔ اڈپی ضلع کے گنگولی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے نتیجہ میں جماعت السملمین کی عمارت اور دکانوں کو جلا دیئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہو ںنے کہا کہ وہ اڈپی کا دورہ کریں گی اور گنگولی میں متاثرین سے ملاقات کرنے کے بعد ضلع انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں گی کہ متاثرین کو معاوضہ دینے کیلئے فوری قدم اٹھائے جائیں، اس سلسلے میں وزیر اعلی سدرامیا سے بھی نمائندگی کی جائے گی ۔ اس موقع پر کمیشن کے سکریٹری نصرت اللہ شریف بھی موجود تھے۔