کرناٹک میں ذات پر مبنی تعلیمی و سماجی سروے کا آغاز

بیدر۔13؍اپریل۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ملک میں ریاستِ کرناٹک ایسی ریاست ہے جہاں84سال کے کافی وقفہ کے بعد ریاست میںذات‘‘ تعلیمی اور سماجی جائزہ 11اپریل ہفتہ سے شروع ہوگیا ہے۔یہ سروے 30؍اپریل تک جاری رہے گا۔اس سروے میں 1لاکھ33ہزار سے زیادہ ملازمین گھر گھر جائیں گے اور1لاکھ 27ہزار سے زیادہ خاندانوں کے ضمن میں معلومات حاصل کریںگے۔ سروے کے دوران55سوالات پوچھے جائیں گے۔سروے کی بنیاد پر حکومت غریبوں کیلئے فلاحی منصوبے شروع کرے گی ۔اس سروے پر170کروڑ روپیے کا خرچ متوقع ہے۔بیدر شہر میں سروے کے دوران شمارکنندہ گھر گھرجاکر معلومات فراہم کرتے ہوئے دیکھے گئے ہفتہ کی صبح ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر پی سی جعفر اپنی رہائش گاہ پرسماجی تعلیمی سروے کی درخواست پُر کرکے بیدر شہر میں سروے مہم کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ 11؍اپریل سے 30 ؍اپریل تک ہونے والے بیدر ضلع میں کئے جانے والے سروے میں شمار کنندگان ‘چارج آفیسر س اور نگران کار کیلئے ضلع کی عوام 55سوالات کا صحیح جواب دیں اور صحیح تفصیلات فراہم کریں۔الیکشن شناختی کارڈ‘ آدھار کارڈ‘راشن کارڈ دکھاکر تعاون دیں شمار کنندگان کا کام شروع ہوچکا ہے اس لئے ریکارڈ اپنے ساتھ رکھیں ۔سروے کے کام کیلئے ضلع میں جملہ4لاکھ درخواستیں پرنٹ کی گئیں ہیں۔ہر خاندان کے ارکان مکمل تفصیلات اس میں شامل رہیںگے۔ ایک خاندان میں تقریبا5ارکان ہوں تو ایک ہی درخواست پُر کی جائے گی اور اس سے زائد ارکان ہو ںتو اس کے ساتھ دوسری درخواست پُر کرنا پڑے گا۔ اس فارم میں بعض سوالات دُشوار کن ہیں ۔اس تعلق سے بات چیت کرکے عوام سے صحیح معلومات حاصل کرکے شما رکنندگان ہی پُر کریں۔آنے والے دنو ں میں ترقی کیلئے سروے ضروری ہے اس سے قبل اپنے خاندان کی مکمل تفصیلات ڈپٹی کمشنر نے پیش کی اور اس پر دستخط کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ بیاکورڈ کلاسس آفیسر مسٹروینکٹیش‘ شمار کنندہ خواجہ اور سپروائز رام لنگپا‘چارج بسواراج اور دیگر ملازمین کے علاوہ ڈپٹی کمشنر کی اہلیہ محترمہ مونا جعفر ‘فرزند اجمل اور امجد موجود تھے۔