کرن، بابو اور جگن کیلئے بڑا چیلنج

محمد نعیم وجاہت

انتخابی بگل بجتے ہی ریاست میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں اور سیاسی قائدین بڑی تیزی سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے میں مصروف ہو گئے، جس سے عوام میں تجسس پایا جاتا ہے۔ 18 فروری تک چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے کرن کمار ریڈی نے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزیر سیاحت چرنجیوی کے بھائی پون کلیان بھی نئی سیاسی جماعت کی تشکیل پر غور کر رہے ہیں۔ اس گہما گہمی کے ماحول میں ہر سیاسی جماعت اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ بظاہر ہر جماعت کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے، مگر کسی بھی جماعت کو حکومت تشکیل دینے کے لئے ’’جادوئی تعداد‘‘ تک پہنچنے کا یقین نہیں ہے، اسی لئے کانگریس پارٹی، ٹی آر ایس سے رشتہ جوڑنا چاہتی ہے، جب کہ بی جے پی، تلگودیشم، وائی ایس آر کانگریس اور ٹی آر ایس سے اتحاد کے لئے اپنا دروازہ کھولے ہوئے ہے۔
علحدہ تلنگانہ ریاست کا بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور ہو چکا ہے، جس پر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی دستخط بھی کرچکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے 2 جون کو تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا کے یوم تاسیس کا اعلان کیا ہے، جب کہ سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے بشمول کانگریس کے معطل ارکان پارلیمنٹ جملہ 17 افراد نے ریاست کی تقسیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، تاہم سپریم کورٹ نے حکم التواء سے انکار کرتے ہوئے تمام درخواستوں کو سپریم کورٹ کی دستوری بنچ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو نوٹس پیش کی ہے۔

ریاست کی تقسیم کے بعد سیاسی صورت حال پوری طرح تبدیل ہو چکی ہے، جب کہ سیاسی جماعتیں عوام کو راغب کرنے والی اسکیمات کے ایجنڈے کے ساتھ عوام کے درمیان پہنچنے کی بجائے تلنگانہ کی تائید و مخالفت میں ایک دوسرے کے خلاف مہم کی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ آندھرا پردیش کے علاوہ سکم اور اُڈیشہ میں بھی اسمبلی انتخابات ہوں گے، جب کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں صرف لوک سبھا انتخابات ہوں گے۔ آندھرا پردیش میں آئندہ دو ماہ تک گرما گرم انتخابی ماحول رہے گا، کیونکہ یہاں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات سے قبل مقامی اداروں کے بھی انتخابات ہو رہے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل مقامی اداروں کے انتخابات کو تمام جماعتیں سیمی فائنل تصور کر رہی ہیں اور اپنی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ہر جماعت کسی جماعت سے اتحاد کے بغیر تنہا مقابلہ کو ترجیح دے رہی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر چیرمین اور میئر کے عہدوں کے لئے ایک دوسرے سے اتحاد و مفاہمت کی گنجائش کو باقی رکھا ہے۔

علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک چلانے میں ٹی آر ایس سرفہرست رہی، تاہم علحدہ ریاست کی تشکیل کا اعزاز کانگریس کے سر جاتا ہے۔ بی جے پی نے بھی بل کی منظوری میں کلیدی رول ادا کیا ہے، مگر جیسے ہی بل راجیہ سبھا میں پہنچا پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی غیر مشروط تائید کرنے والی بی جے پی نے 30 سے زائد ترمیمات پیش کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بی جے پی کا یہ عمل سیما۔ آندھرا میں پارٹی کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہو سکتا ہے، مگر سیما۔ آندھرا کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے سینئر قائد ایم وینکیا نائیڈو کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے پر تلنگانہ عوام میں غلط تأثر پیدا ہوا ہے۔

کانگریس علحدہ ریاست تشکیل دینے والی قومی جماعت ہے، لیکن ٹی آر ایس کے سامنے آج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔ علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے سربراہ ٹی آر ایس نے اعلان کیا تھا، جس کی وجہ سے کانگریس نے سیما۔ آندھرا میں پارٹی کے نقصان کا اندازہ کرتے ہوئے 6 ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سے معطل کرکے تلنگانہ بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور کیا، یہاں تک کہ کانگریس کو چیف منسٹر کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا اور کئی ارکان اسمبلی مستعفی بھی ہوئے، لیکن کانگریس نے کسی کی پرواہ نہیں کی، جب کہ لمحۂ آخر میں ٹی آر ایس نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کانگریس کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ سربراہ ٹی آر ایس نے اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے سے انکار کرنے کی کئی وجوہات پیش کی ہیں، تاہم آندھرائی جماعتوں سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کانگریس، بی جے پی، سی پی آئی اور مجلس کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ٹی آر ایس کے اس فیصلہ سے کانگریس اور ٹی آر ایس کے رشتوں میں کچھ دراڑ پیدا ہو گیا ہے، جب کہ دونوں جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ بگڑتی صورت حال کو دیکھ کر کانگریس قائدین نے اپنے قائدین کو صبر و تحمل سے کام لینے اور ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ نہ بنانے کا مشورہ دیا۔

اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ٹی آر ایس نے سیاسی منصوبہ بندی کے تحت اپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے تو کیا تلنگانہ عوام سے سربراہ ٹی آر ایس نے جو وعدے کئے ہیں، عوام اس پر کس حد تک بھروسہ کرسکتے ہیں؟۔ کیونکہ سربراہ ٹی آر ایس نے خود چیف منسٹر نہ بن کر کسی دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا، مگر اب وہ اس پر برقرار نہیں ہیں۔ انھوں نے کسی مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کے علاوہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ لہذا غور طلب بات یہ ہے کہ ٹی آر ایس سربراہ اپنے ان وعدوں پر برقرار رہیں گے یا ان سے بھی دست بردار ہو جائیں گے؟۔ عوام کے ذہنوں میں اس طرح کے کئی سوالات اُبھر رہے ہیں۔

2009ء اور 2014ء کے درمیان آندھرا پردیش میں جو سیاسی تبدیلیاں ہوئی ہیں، ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ راج شیکھر ریڈی کی حادثاتی موت کے بعد ان کے فرزند جگن موہن ریڈی نے نئی جماعت وائی ایس آر کانگریس تشکیل دی۔ جتنی تعداد میں ارکان اسمبلی و ارکان پارلیمنٹ نے ان پانچ برسوں کے درمیان اپنی وفاداریاں تبدیل کی ہیں، اس کی بھی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ علاوہ ازیں ان پانچ برسوں کے دوران جتنے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، ماضی میں کبھی نہیں ہوئے۔

60 سال تک کانگریس سے خاندانی رشتہ رکھنے والے کرن کمار ریڈی نے ریاست کی تقسیم کے خلاف بطور احتجاج چیف منسٹر کے عہدہ کے علاوہ کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں چرنجیوی کے بھائی فلم اسٹار پون کلیان بھی نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کے لئے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا کے ملازمین نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹیاں تشکیل دے کر تلنگانہ کی تائید اور مخالفت میں اہم رول ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے دونوں علاقوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹیوں کے قائدین 2014ء کے عام انتخابات میں اپنی قسمت آزمانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

تقسیم ریاست کے بعد علاقہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس مستحکم ہے، جب کہ دوسرے مقام پر کانگریس ہے۔ اسی طرح سیما۔ آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس مستحکم ہے، جب کہ تلگودیشم کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، تاہم کرن کمار ریڈی کی نوتشکیل جماعت سیما۔ آندھرا میں دونوں جماعتوں کے لئے بہت بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے آپسی اتحاد اور امیدواروں کے اعلان تک ریاست کے سیاسی منظر میں مزید تبدیلی کا امکان ہے۔ مقامی اداروں کے نتائج، سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اتنی ساری جماعتوں کے درمیان مقابلہ کے بعد کس کو کتنا فائدہ ہوگا یا کس کو کتنا نقصان پہنچے گا، پیش قیاسی کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ 2009ء کے عام انتخابات میں پرجا راجیم نے 18 فیصد ووٹ حاصل کرکے تلگودیشم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ کرن کمار ریڈی اور پون کلیان کی نئی سیاسی جماعتیں کیا گل کھلائیں گی؟، عام آدمی پارٹی اور لوک ستہ کا کیا رول ہوگا؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

تشکیل ریاست کے بعد علاقہ تلنگانہ میں کانگریس اور ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ہے، اگر دونوں کے درمیان اتحاد ہوجائے تو دونوں جماعتوں کے کامیابی کے امکانات روشن ہوں گے۔ اگر بی جے پی اور تلگودیشم کے درمیان اتحاد ہوتا ہے تو کانگریس اور ٹی آر ایس کو سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔ وائی ایس آر کانگریس کو علاقہ تلنگانہ میں زیادہ عوامی تائید حاصل نہیں ہے، جب کہ سیما۔ آندھرا میں اصل مقابلہ وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم کے درمیان ہوگا، تاہم کرن کمار ریڈی کی پارٹی دونوں جماعتوں کو واضح اکثریت کے حصول سے روک سکتی ہے۔ فی الوقت صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2014ء کے عام انتخابات نہ صرف امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، بلکہ یہ انتخابی نتائج سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے، اسی وجہ سے ہر جماعت اپنی چھاپ چھوڑنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔