کولکتہ۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال میں حکمران جماعت ترنمول کانگریس قائدین نے مجوزہ اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس اور بائیں بازو کے درمیان مفاہمت کو سیاست میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ پردیش کانگریس قائدین نے کل پارٹی نائب صدر راہول گاندھی کو یہ پیام روانہ کیا تھا کہ بنیادی سطح کے کارکنوں کی یہ خواہش ہے کہ بائیں بازو کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی جائے گی تاکہ وہ نظریاتی بنیادوں پر منقسم ہیں، جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹی ایم سی لیڈر نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ دو متضاد جماعتوں (کانگریس۔ لیفٹ) کے درمیان مفاہمت ایک ناکام کوشش ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ایک کانگریسی خاندان سے ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ کانگریس اور لیفٹ کے درمیان اتحاد قائم ہوگیا تو کانگریس کے ووٹ بھی ٹی ایم سی حاصل کرلے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس قائدین نے نہ صرف لیفٹ کے خلاف جدوجہد کی ہے
، بلکہ ان کے ظلم و ستم کو بھی برداشت کیا ہے، لہذا ان کے ہاتھ لیفٹ کے حق میں ووٹ دینے کیلئے اُٹھ نہیں سکتے۔ ایک اور ٹی ایم سی لیڈر اور وزیر سیول سپلائیز جیوتی سیریہ مولک نے کہا کہ اگر کانگریس اور لیفٹ کے درمیان اتحاد قائم ہوگیا تو وہ دو ہندسوں تک پہنچنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے اور ترنمول کانگریس پہلے سے زیادہ اکثریت حاصل کرے گی تاہم حکمران جماعت نے کانگریس اور لیفٹ کے درمیان مفاہمت کی تجویز پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے۔ ٹی ایم سی سیکریٹری جنرل پرتھا چٹرجی نے کہا کہ دیگر پارٹیوں کے داخلی معاملات پر ہم تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ مغربی بنگال پردیش کانگریس قائدین نے کل راہول گاندھی کے ساتھ ملاقات کے موقع پر لیفٹ پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت کی تجویز منقسم رائے دی تھی، حکمران ٹی ایم سی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کردیا گیا۔ صدر پردیش کانگریس ادھیر رنجن چودھری نے بتایا کہ پارٹی قائدین کی اکثریت ترنمول کانگریس کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہے البتہ بائیں بازو کی جماعتوں (لیفٹ فرنٹ) کے ساتھ مفاہمت کے حق میں ہیں۔