کانگریس کو موثر سیاسی ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
تلنگانہ کے پرگتی بھون میں اقتدار پر سایہ کرنے والے سیاسی درخت پر اب ان گنت چڑیاں اپنا مسکن بنا رہی ہیں ۔ دوسرے گھونسلے سے نکل کر یہاں بیٹھنے والی یہ چڑیاں سارا دن پرگتی بھون کے مکین پر ٹکٹکی باندھے یہاں ہونے والی حرکات و سکنات اور ٹکٹوں کی تقسیم کا مشاہدہ کررہی ہیں جب کبھی اس بھون میں ہلچل مچتی ہے تو یہ چڑیاں بھی بے تاب ہوجاتی ہیں ۔ چہ میگوئیاں شروع کردیتی ہیں ۔ آس بڑھ جاتی ہے کہ انہیں اپنا گھونسلہ تبدیل کر کے یہاں آکر بیٹھنے کا انعام بطور ٹکٹ مل جائے گا ۔ ٹکٹ کی خاطر یہ سیاستداں کیا کچھ کرتے رہتے ہیں ۔ اس کا مشاہدہ آج ہر کوئی کررہا ہے ۔ آثار بتا رہے ہیں کہ چہرے بدلے بدلے سے ہیں کردار بدلے بدلے سے ہیں ، انداز بدلے بدلے سے ہیں لیکن سیاسی وفاداری تبدیل کر کے پیار کا سلسلہ وہی پرانا ہے آج حکمراں پارٹی میں اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین دھڑا دھڑا شامل ہورہے ہیں ۔ حکمراں طبقہ کے مختلف حلقے عوام کے مینڈیٹ پر ضرب لگانے کے لیے ایک دفعہ پھر متحرک ہوگئے ہیں ۔ اگلا انتخاب کون جیتے گا ۔ اس کا فیصلہ آپ کے ووٹ نہیں کریں گے بلکہ اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی جوڑ توڑ اس کا فیصلہ کرے گی ۔ دل بدلی اور جوڑ توڑ کا بنیادی فریم ورک یہ ہوتاہے کہ پارٹیاں بدلنے والوں کو اقتدار میں کتنا حصہ ملے گا ۔ اختیارات کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا اور ٹیکس کی شکل میں عوام سے لوٹی جانے والی دولت میں کس کا کتنا حصہ ہوگا ۔ یہ دولت مختلف تعمیراتی پراجکٹس شروع کر کے اس کا گتہ حاصل کرنے والے قائدین کو دی جاتی ہے ۔ ان دنوں تلنگانہ کی اپوزیشن پارٹیاں انتہائی بے بسی کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔ خاص کر کانگریس کو ایسے قائدین سے مایوسی ہورہی ہے جو پارٹی ٹکٹ حاصل کر کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوئے اور عوامی تائید کا رخ حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کی جانب کردیا ۔ یہ سیاسی ری انجینئرنگ کا نتیجہ بھیانک بھی نکل سکتا ہے جس کی بنیادیں اور سیاسی اسٹرکچر ناقص ہوتا ہے وہ بسا اوقات اس پارٹی کو بھی کمزور کردیتی ہے جس میں وہ شامل ہوتے ہیں ۔

آپ لوگ ضرور دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں ان دل بدلو قائدین کا کیا ہونے والا ہے ۔ سوشیل میڈیا کے اس دور میں اس کی قلعی بہت جلد عوام کے سامنے کھل جائے گی ۔ مختلف سیاسی اپوزیشن پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندوں کے بشمول چند سیاستدانوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شامل ہونے کو اپنا حق سمجھ لیا ہے اور ٹی آر ایس بھی اپوزیشن قائدین کو ورغلا کر اپنی جانب کھینچ رہی ہے ۔ بعض کے لیے یہ ایک غیر اخلاقی غیر اصولی عمل ہے لیکن جو لوگ ایسا کررہے ہیں ان کے نزدیک ان کا یہ عمل وقت کا تقاضہ مانا جارہا ہے ۔ آئندہ پانچ سال تک اپوزیشن میں رہ کر خالی پیٹ پوجا ہو نہیں سکتی ۔ لہذا حکمراں پارٹی میں رہنے سے کچھ نہ کچھ پیٹ پوجا ہوجائے گی ۔ اس انحراف پسندی کو ضروری قرار دینے والو ںکا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی بہبودی اور ترقیاتی اسکیمات کو دیکھ کر کیا ہے۔ ان میں سے بعض قائدین نے یہ شکایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن میں رہ کر سیاسی بیروزگاری کی زندگی گذار رہے تھے بلکہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے وجود کا احساس دلانے میں بھی ناکام ہوچکی ہیں ایسے میں اپوزیشن میں وہی رہے گا جس میں ہمت نہیں ہوگی جو ہمت کرے گا اسے ہی روزگار ملے گا ۔ ایسی انحراف پسندی کی سیاست کو روکنے کے لیے اگرچیکہ قانون موجود ہے ۔ مگر تلنگانہ میں اپوزیشن پارٹیاں اس انسداد انحراف پسندی قانون سے استفادہ کرنے سے بھی قاصر دکھائی دیتی ہیں ۔ اپوزیشن نے انسداد انحراف قانون کا سہارا لیتے ہوئے ان قائدین کو نا اہل قرار دینے کی دوڑ لگانی شروع کی ہے اور اس بارے میں صرف بیان بازی ہورہی ہے ۔ ملک کے انسداد انحراف قانون میں کئی دفعات میں اور اس کے ذریعہ پارٹیاں تبدیل کرنے والے منتخب عوامی نمائندگان کو نا اہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ مگر اس قانون میں پائے جانے والے لچک کی وجہ سے بھی انحراف کا عمل تیز ہوگیا ہے ۔ انسداد انحراف قانون 1985 میں منظور ہوا تھا ۔ دستور کے دسویں شیڈول کی شکل میں ہے ۔ اس قانون کا وجود بھی ان دل بدلو لیڈروں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔ انحراف کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان تلنگانہ کانگریس پارٹی کو ہورہا ہے ۔ کئی قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی اور اب پارٹی کی سینئیر لیڈر اور سابق وزیر ڈی کے ارونا نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی انہیں بی جے پی کی جانب سے محبوب نگر لوک سبھا حلقہ سے ٹکٹ دیا جارہا ہے ۔ دسمبر 2018 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں ڈی کے ارونا کو گدوال اسمبلی حلقہ سے شکست ہوئی تھی ۔ ان کے لیے ٹی آر ایس یا بی جے پی میں شامل ہونا کیوں ضروری ہوا یہ غور طلب ہے ۔ ڈی کے ارونا نے بی جے پی کو تلنگانہ میں مضبوط بنانے کا عہد کیا ہے ۔ انہوں نے یہ فیصلہ کر کے اپنا سیاسی کیرئیر ہی داؤ پر لگا دیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے بی جے پی میں شامل ہونے سے ضلع محبوب نگر میں بی جے پی پارٹی کو مضبوطی حاصل ہوگی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس کی صورتحال افسوسناک ہے ۔ 8 کانگریس ارکان اسمبلی نے انحراف کر کے تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شمولیت اختیار کی تو یہ واقعی فکر کی بات ہے ۔ ایک اور دھماکہ خیز فیصلہ کرتے ہوئے تلنگانہ لیڈر ناگیشور راؤ نے بھی تلگو دیشم چھوڑ دیا ہے وہ تلگو دیشم پولیٹ بیورو رکن تھے وہ کچھ دنوں سے پارٹی قیادت سے ناراض بھی تھے ۔ امکان غالب ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہوں گے ۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ دو تلگو ریاستوں کے 42 لوک سبھا حلقوں میں انتخابی عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اس مرتبہ آندھرا پردیش کی 175 رکنی اسمبلی کے لیے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ تلنگانہ میں اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات غداروں کے درمیان ہوں گے ۔ کانگریس کو اپنی ناکامی کا ابھی سے اندازہ ہوچکا ہے ۔ تاہم وہ ہنوز اپنی باقی ماندہ طاقت کو مجتمع کر کے حکمراں ٹی آر ایس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کررہی ہے ۔ کانگریس کو سب سے بڑا دھکہ اس وقت لگا جب پارٹی کے نوجوان قائدین نے اسے خیر باد کہہ دیا ۔ نوجوان کانگریس لیڈر پی کارتک ریڈی نے ٹی آر ایس میں شامل ہو کر اپنے سیاسی مستقبل کو روشن کرنے کی جانب قدم اٹھایا ہے ۔ کانگریس کی سینئیر لیڈر اور سابق وزیر سبیتا اندرا ریڈی اپنے فرزند کارتک ریڈی کو لوک سبھا سیٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔ گذشتہ پانچ سال سے عوام کے درمیان پہونچنے میں شرم محسوس کرنے کا دعویٰ کرنے والے ان قائدین نے ٹی آر ایس سے وفاداری جتا کر اپنی عوامی شرم کو ختم کردیا ہے تو ان کا ضمیر اور باطن سرمشار ہوا ہوگا ۔ اگر نہیں ہوا ہے تو یوں سمجھئے کہ ان کے اندر ایک مردہ حس فروغ پا رہی ہے ۔ کانگریس سے علحدہ ہونے والے قائدین نے جاتے جاتے پارٹی کو ایک سبق دیا ہے کہ کانگریس کو اپنے اندر بہت بڑی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کا اعتماد جتنے کے لیے اسے سخت محنت کرنی ہوگی ۔ اس بدلتی سیاسی صورتحال کے درمیان اگر لوک سبھا انتخابات کے نتائج کچھ اور ہی برآمد ہوتے ہیں تو پھر حکمراں ٹی آر ایس کا موقف کیا ہوگا ، یہ قابل غور ہوگا ۔ کانگریس کو اس بے مرورت ، غدار اور پیچیدہ سیاسی ماحول میں اس انداز سے سیاسی ری اسٹرکچرنگ کرنی ہوگی کہ نہ صرف وہ عوام کا اعتماد جتنے میں کامیاب ہوجائے بلکہ اپنی کھوئی ساکھ کو بھی بحال کرلے ۔