نہرو۔گاندھی فیملی کی چار نسلوں نے کارنامہ کے بغیر حکمرانی کی، کانگریس میں جمہوری نظام کا فقدان
امبیکاپور ، 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کانگریس کو چیلنج کیا کہ گاندھی فیملی سے باہر کسی کو کم از کم پانچ سال کیلئے صدر پارٹی بناکر دکھائے۔ مودی نے کہا کہ اگر کانگریس کسی ایسے فرد کو جو (گاندھی) فیملی سے نہ ہو، کم از کم پانچ سال کیلئے صدر پارٹی بناتی ہے تو وہ یقین کریں گے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے واقعی وہاں (کانگریس میں) حقیقی جمہوری نظام تشکیل دیا ۔ چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے 20 نومبر کو مقررہ دوسرے مرحلے کیلئے انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ’’میں انھیں چیلنج کرنا چاہتا ہوں۔ فیملی سے باہر کے کسی اچھے لیڈر کو صدر پارٹی پانچ سال کیلئے بننے دیجئے، تب میں کہوں گا کہ نہرو جی نے واقعی درست جمہوری نظام تشکیل دیا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کی چار نسلوں نے قوم پر حکمرانی کی اور انھیں بتانا چاہئے کہ انھوں نے ملک کیلئے کیا کیا ہے۔ ’’عوام نے نامنظور کردیا کہ دہلی میں لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرنے کا صرف ایک فیملی کو ہی حق ہے۔‘‘ مودی نے کانگریس اور گاندھی شخصیتوں پر درپردہ حملے میں کہا، ’’آپ غریبوں کو درپیش مشکلات کو نہیں سمجھ سکتے لیکن چائے والا سمجھ سکتا ہے۔‘‘ مودی نے اصل اپوزیشن پارٹی اور اس کے سرکردہ قائدین کو نشانے بنانے میں کوئی بھی لحاظ کئے بغیر کہا کہ انھوں (کانگریس) نے ملک کو اپنی جھوٹ باتوں سے اندھیرے میں رکھا جو اُن کے ذہنوں میں پیوست ہیں۔ پولنگ کے پہلے مرحلے منعقدہ 10 نومبر میں متاثرکن رائے دہی کے بارے میں مودی نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں بَستر کے لوگوں نے پہلے مرحلے میں ریکارڈ ووٹنگ تناسب درج کراتے ہوئے نکسلائٹس کو سخت پیام دیا ہے۔