کانگریس کو اپوزیشن کا موقف دینے سے انکار کی مدافعت

اندور ۔ /23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے دفعات میں مداخلت کرنے سپریمکورٹ کے فیصلہ کے ایک دن بعد لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کو اپوزیشن لیڈر کا موقف نہ دینے کا فیصلہ انہوں نے قواعد اور روایات کی بنیاد پر کیا تھا ۔ میرا یہ فیصلہ حق بجانب ہے جبکہ سپریم کورٹ نے میرے خلاف کوئی تاثرات ظاہر نہیں کئے ہیں ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی غیر حاضری میں لوک پال کے تقرر کے مسئلہ پر مرکز سے سوال کیا ہے اور اٹارنی جنرل عدالت کو واقف کرائیں گے کہ حکومت کا موقف کیا ہے ۔ عدالت نے اسپیکر کے خلاف کوئی تاثر بیان نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے لوک سبھا میں قائد ایوان کا موقف نہ دینے اپنے فیصلہ کی مدافعت کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی کو یہ موقف قواعد کے مطابق ہی نہیں دیا گیا ہے ۔ ایوان میں کانگریس کو مطلوبہ ارکان کی تعداد حاصل نہیں ہے ۔ سمترا مہاجن نے کہا کہ میں نے قواعد اور روایات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی فیصلہ کیا تھا اور اس مسئلہ پر ماہرین کی رائے بھی حاصل کی گئی ہے کہ ایوان میں ارکان کی تعداد 55 سے زائد نہ ہو رتو اسے اپوزیشن پارٹی کا موقف نہیں ملے گا ۔ آج کی تاریخ تک یہی قواعد نافذ ہیں کہ ایوان میں پارٹی کے ارکان کی تعداد جملہ ارکان کا کم از کم 10 فیصد ہونا چاہئیے ۔