عادل آباد ۔ 13 ۔ مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عادل آباد کانگریس کمیٹی میں پائے جانے والے اختلافات منظر عام پر آچکے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کا دوسرا گروپ پہلے گروپ کی مخالفت کرتے ہوئے ضلع کانگریس کمیٹی صدر مسٹر سی رامچندر ریڈی کی ایم پر عادل آباد بلدی حلقہ کے 15 کونسلرز امیدواروں کی جاری کردہ پہلی فہرست کو منسوخ کرانے میں کامیابی حاصل کی ۔ تفصیلات کے مطابق عادل آباد بلدیہ کے 36 وارڈز کے منجملہ 15 وارڈز پر سینئر کانگریسی قائد نے پہلی فہرست جاری کی تھی جس کو کانگریس پارٹی ضلع انچارج مسٹر نرسا گوڑ نے مسترد کردیا اور پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے مکمل اختیارات انچارج کو حاصل ہونے کے دستاویزات بھی دفتر ضلع کلکٹریٹ میں داخل کیا ۔
ریاستی سکریٹری محترمہ جی سجاتا ، این ایس یو آئی سابق صدر مسٹر بھارگودیش پانڈے عادل آباد بلدیہ میں جہاں 10 وارڈز میں اپنے منتخب کردہ امیدواروں کو کانگریس پارٹی ٹکٹ کا مطالبہ کیا وہیں دوسری طرف منچریال میں سابق MLC مسٹر پریم ساگر راؤ ، سابق اراکین اسمبلی میں مسٹر سی دیواکر راو ، موجودہ رکن اسمبلی مسٹر ارویندر ، بیلم پلی میں سابق صدرنشین مجلس بلدیہ مسٹر سوری بابو ، کاغذ نگر میں سابق رکن قانون ساز کونسل مسٹر سلطان احمد ، بھینسہ میں سابق رکن اسمبلی نارائن راؤ پٹیل ، زرعی مارکٹ کمیٹی صدر مسٹر وٹھل ریڈی بھی اپنے اپنے طو رپر بلدیات کونسلرز کو ٹھہرانے کا فیصلہ کرچکے ہیں جس کے پیش نظر کانگریس میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوچکا ہے ۔ سیاسی قائدین کی گروپ بندی کے بناء پر مختلف محلہ جات میں قابل امیدواروں کو کانگریس پارٹی ٹکٹ سے محروم ہونے کے آشار دیکھائی دے رہے ہیں ۔
تلنگانہ ریاست عمل کے بناء پر کانگریس پارٹی کا عوامی مقبولیت میں اضافہ تصور کیا جارہا ہے ۔ کانگریس پارٹی سے وابستہ قدیم افراد کے علاوہ نئے چہرہ بھی کانگریس پارٹی ٹکٹ حاصل کرتے ہوئے بلدی انتخابات میں حصہ لینے کو ترجیحی دیا کررہے ہیں ۔