سیاسی فوائد کے لئے نکسلائیٹ کی حمایت کا الزام ، چھتیس گڑھ میں آدتیہ ناتھ کی اپیل
لوی (چھتیس گڑھ) /10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے پھر ایک مرتبہ آج مسئلہ رام مندر اٹھاتے ہوئے یہ جاننا چاہا کہ کانگر یس کو آیا لارڈ رام کی یا پھر مغل شہنشاہ بابر کی فکر ہے ۔ چھتیس گڑھ میں پیر کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات کی مہم کے آخری دن یوگی نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ کانگریس ، قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے اور سیاسی فائدوں کے لئے چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں نکسلائیٹ کی سرگرم اور خفیہ تائید کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بے پناہ قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود چھتیس گڑھ کانگریس کے دور اقتدار میں ایک بیمار ریاست بن گئی تھی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے آج جنگلاتی دولت استعمال کی جارہی ہے ۔ جنگلات میں رہنے والوں اور آدی واسیوں کو مختلف ترقیاتی اسکیمات کے فوائد پہونچائے جارہے ہیں ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس محض اپنے فوائد کے لئے نکسلائیٹوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔ لیکن یہ (نکسلائیٹ سرگرمیاں) عوام کی سلامتی کے لئے خطرناک بن گئیں تو وہ بی جے پی ہی تھی جس نے اس مسئلہ کو سختی کے ساتھ نمٹا ‘‘ ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ’’ کانگریس سے پوچھا جانا چاہئیے کہ آیا اس کا تعلق (لارڈ) رام سے ہے یا پھر بیرونی قابض بابر سے ہے ۔
کانگریس کے پاس ملک کے احترام کے بارے میں کوئی نظریہ نہیں ہے ‘ ۔ 90 رکنی چھتیس گڑھ اسمبلی کے لئے دو مرحلوں میں /12 اور /20 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔