نئی دہلی،22نومبر(سیاست ڈاٹ کام)کانگریس نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی بحالی کے لئے جلد از جلد اسمبلی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔کانگریس کے محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں سے کہا ‘‘جموں و کشمیر کے عوام کے لئے مرکز کی حکومت یعنی بھارتیہ جنتا پارتی کی حکومت ٹھیک نہیں ہے ۔وہاں جمہوریت کو بحال کرنا بے حد ضروری ہے اور اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہاں جلد از جلد اسمبلی انتخابات کرائے جائیں۔’’مسٹر سرجے والا نے کہا کہ بی جے پی نے پہلے پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی )کے ساتھ بے میل اتحاد کرکے حکومت چلانے کی کوشش کی تھی لیکن وقت سے پہلے اس بے میل حکومت کا خاتمہ ہوگیا جو فطری تھا۔اس کے بعد وہاں صدر راج نافذ کیاگیا جو کہ عوام کے حق میں نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں کانگریس کے ترجمان نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک ،بطور گورنر کم ،بی جے پی کے نمائندے کا رول زیادہ ادا کرتے نظر آرہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی نے کسی دیگرپارٹی کو حکومت بنانے کے لئے تحریری حمایت نہیں دی تھی۔قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے مل کر چہارشنبہ کو ریاست میں حکومت بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس سے پہلے ہی گورنر نے اسمبلی کو تحلیل کردیا۔
کابینہ کو جموں و کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا
نئی دہلی، 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے بارے میں آج مرکزی کابینہ کو جانکاری دی گئی۔وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج ہوئی کابینہ میٹنگ بعد وزیر خارجہ ارون جیٹلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ‘‘یہ موضوع کابینہ کی آج کی میٹنگ کی فہرست میں شامل نہیں تھا، لیکن یقینی طور پر کابینہ کو اس کے بارے میں آگاہ کرایا گیا’’۔ اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ میٹنگ میں اس معاملے پر کیا بحث ہوئی یا بحث بھی ہوئی یا نہیں۔واضح رہے کہ کانگریس، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے بدھ کے روز ریاست میں اتحادی حکومت بنانے کا دعوی پیش کیا تھا لیکن گورنر ستیہ پال ملک نے انہیں موقع دینے کے بجائے دیر رات اسمبلی تحلیل کردی۔ قیاس لگائے جارہے ہیں کہ اب لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی ریاست میں اسمبلی کے انتخابات بھی کرائے جائیں گے ۔