کانگریس میں تنظیمی ردوبدل پر راہول گاندھی کی چھاپ

نئی دہلی۔2مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) راہول گاندھی کو صدرکانگریس امکانی تقرر سے پہلے جو کُل ہند کانگریس کے آئندہ اجلاس میں آئندہ ماہ کیا جائے گا ‘ کانگریس نے آج پانچ نئے صدور پردیش کانگریس اور ایک علاقائی کانگریس کمیٹی صدر کا تقرر کیا ۔ تنظیمی ردوبدل پر راہول گاندھی کی واضح چھاپ نظر آتی ہے ۔ اجئے ماکن کو دہلی میں ریاستی قیادت سونپی گئی ہے جب کہ اشوک چاوان مہاراشٹرا ‘ غلام احمد میر جموں و کشمیر ‘ بھرت سنہہ سولنکی گجرات اور اتم ریڈی کا تلنگانہ میں تقرر کیا گیا ہے۔ ریاستوں میں عرصہ سے ان تقررات کا انتظار کیا جارہا تھا اور راہول خاص طور پر ان ریاستوں کے نئے صدور پردیش کانگریس کے تقررات سے گہری دلچسپی رکھتے تھے ۔ اشارہ مل رہے ہیں کہ انہوں نے گجرات اور مہاراشٹرا میں خاص طور پر تبدیلیوں کیلئے زور دیا تھا ۔ یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت کی گئی ہیں جب کہ راہول گاندھی اپنی دو ہفتہ طویل رخصت پر عنقریب واپس ہونے والے ہیں ۔ انہوں نے یہ رخصت اہم بجٹ اجلاس کے دوران لی تھی جو اختتام کے قریب ہے ۔ پارٹی کے ذرائع کے بموجب راہول گاندھی جلد ہی واپس آجائیں گے ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے پانچ نئے صدور پردیش کانگریس اور ایک علاقائی کمیٹی کے صدر کا تقرر کیا ہے ۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری ( تنظیمی) جناردھن ریڈی کے بموجب ان ناموں کو قطعیت دی جاچکی ہے ۔ علاوہ ازیں رکن اسمبلی ملّوبھٹی وکرامارکا کو کارگذار صدر برائے تلنگانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ نئے صدر پردیش کانگریس تلنگانہ ریڈی ریاستی صدر پنالہ لکشمیا کے جانشین ہوں گے ‘ جنہیںصرف گذشتہ سالمارچ میں مقرر کیا گیا تھا ۔ ریڈی کو اس وقت کارگذار صدر مقرر کیا گیا تھا ۔ چاوان مانک راؤ ٹھاکرے کے اور غلام احمد میر جموں و کشمیر میں سیف الدین سوز کے جانشین ہوں گے ۔ بھرت سنہہ سولنکی ارجن مودھ وادیا کی جگہ گجرات پردیش کانگریس کے صدر ہوں گے ۔ وہ سابق چیف منسٹر مادھو سنہہ سولنکی کے فرزند ہیں ۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ انہیںصدر پردیش گجرات کانگریس مقرر کیا گیا ہے ۔ اجئے ماکن صدر پردیش کانگریس دہلی مقرر کئے گئے ہیں ۔ وہ ارویندر سنگھ لولی کے جانشین ہوں گے ۔ کُل ہند کانگریس کے جنرل سکریٹری بی کے ہری پرساد اور کُل ہند کانگریس کے سکریٹری معین الحق کو بحیثیت مبصر اور معاون مبصر مقرر کیا گیا ہے ۔ وہ جموں و کشمیر کے قائد مقننہ پارٹی کے انتخاب میں یہ عہدے سنبھالیں گے ۔ پنجاب میں سابق چیف منسٹر امریندر سنگھ کے قریبی ساتھی لال سنگھ کا نام لیا جارہا ہے ۔ پنجاب ان ریاستوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جہاں تبدیلیوں کا آج اعلان کیا گیا ہے ۔