چینائی 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت امکان ہے کہ پارلیمنٹ کے جاری سیشن کے دوران کالا دھن پر نیا قانون متعارف کرے گی تاکہ اِس لعنت سے مؤثر طور پر نمٹا جاسکے۔ ریونیو سکریٹری شکتی کانتا داس نے آج یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے سی آئی آئی کے پروگرام سے خطاب کے دوران کہاکہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ بجٹ سیشن کے پہلے مرحلہ میں ہی ایک ایسا بِل متعارف کیا جائے۔ جاریہ بجٹ سیشن کا پہلا مرحلہ 20 مارچ کو ختم ہوگا۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ حکومت بیرون ملک جمع کالا دھن سے نمٹنے کے لئے ایک نیا مؤثر قانون متعارف کرے گی۔ اِس مجوزہ قانون میں بیرون ملک اثاثہ جات کو مخفی رکھنے پر 10 سال قید بامشقت کی گنجائش رکھی جائے گی۔ ریونیو سکریٹری شکتی کانتا داس نے مجوزہ قانون کی صراحت کرتے ہوئے کہاکہ ریونیو ڈپارٹمنٹ کو اِن اثاثوں کے مساوی قدر کی ہندوستان میں موجود جائیداد ضبط کرنے کا اختیار رہے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں اِس لعنت سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ نئے قانون میں کئی خامیوں کو دور کیا جائے گا اور بیرون ملک جمع اثاثوں سے نمٹنے کے سلسلہ میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیئے جائیں گے۔ سوئز حکام نے ایچ ایس بی سی کی فہرست میں جن ناموں کا ذکر کیا ہے اُن کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کے لئے ریونیو ڈپارٹمنٹ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اُنھوں نے ایسے معاملات میں جن کی ہمارے ٹیکس حکام اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے آزادانہ تحقیقات کی ہے، معلومات فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ سوئز عہدیداروں نے مرحلہ وار انداز میں تمام اطلاعات کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ سوئز حکام نے ہندوستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے سے اتفاق کیا۔ اِس کے بعد اُنھوں نے بینکنگ یا غیر بینکنگ اطلاعات کے بارے میں معلومات کی فراہمی سے اتفاق کیا۔ ہندوستان کو 628 افراد کے ناموں کی فہرست موصول ہوئی ہے جن کے جنیوا میں واقع ایچ ایس بی سی بینک میں اکاؤنٹس ہیں۔ اِس فہرست کو سوئزرلینڈ میں مسروقہ فہرست تصور کیا جارہا ہے لیکن ہندوستان اِسے مصدقہ سمجھتا ہے کیونکہ یہ اطلاعات فرانس کی حکومت سے موصول ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان نے جب سوئز حکام کو ایچ ایس بی سی فہرست میں موجود ناموں کی تفصیلات کے تعلق سے سوئز حکام کو رضامند کرلیا ، اُس کے بعد حالات کافی تبدیل ہوگئے۔