سرپورٹاؤن۔13جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع عادل آباد کو دو ضلعوں میں تقسیم کئے جانے پر گذشتہ کئی سالوں سے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں ہورہے ہیں لیکن ٹی آر ایس پارٹی صدر اور تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر این چندراشیکھرراؤ کی جانب سے تلنگانہ ریاست کے 10اضلاع کو بڑھاکر 24اضلاع کرنے کے اعلان پر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے تاکہ ضلعی سطح کے سرکاری کاموں کیلئے 150تا 200کلومیٹر کی دوری کا فاصلہ طئے کرنا پڑتا تھا لیکن چیف منسٹر کے اعلان کے بعد سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اس لئے ضلع عادل آباد کو مشرقی عادل آباد اور مغربی عادل آباد کے تحت تقسیم کرنے کی امید ہے ۔ اس لئے ضلع عادل آباد میں مزید ضلعوں کا اضافہ کیا گیاتو کاغذ نگر کو ضلع بنانے کا عوام نے مطالبہ کیا ہے کیونکہ کاغذنگر کو ضلع بنانے سے عوام کو کافی سہولت ہوگی اور ضلع کا سنٹر درمیانی علاقہ بھی کاغذنگر ہوگا جیسا کہ چنور ‘ منچریل ‘ جے پور منڈل اور آصف آباد کیلئے درمیانی علاقہ کاغذنگر ہوگا اور لگ بھگ کسی بھی منڈل سے 100تا 120 کلومیٹر کی دوری ہوگی ۔ اگر اس کے برخلاف منچریال کو ضلع بنایا گیا تو بجور منڈل کے عوام کو کافی دشواریاں ہوگی ۔