سڈنی ، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کسی بڑے ٹورنمنٹ کے کلیدی مرحلے میں یکایک زوال ہوجانے کی عادت سے چھٹکارہ پانے کیلئے بے تاب اے بی ڈی ولیرس زیرقیادت جنوبی افریقہ کی یہی کوشش رہے گی کہ اولین کارنامہ درج کراتے ہوئے جاریہ ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ میچ جیتا جائے جب وہ سری لنکا کے ساتھ کافی گرماہٹ والے پہلے کوارٹرفائنل مقابلے میں کل یہاں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (ایس سی جی) میں نبردآزما ہوں گے۔ یہ 1992ء کی بات ہے جب پروٹیز کے بدقسمت ناک آؤٹ اخراجوں کی شروعات ہوئی جہاں کیپلر ویزلس زیرقیادت ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ناکامی ہوگئی جبکہ اسے بارش پر ڈکورتھ ؍ لوئس قاعدہ کے تحت 21 رنز آخری گیند پر بنانے کیلئے کہا گیا ۔ عجیب اتفاق ہے یہ قاعدہ ایس سی جی سے لاگو ہوا تھا۔ ’کتنے پاس کتنے دور‘ والے معاملوں کا سلسلہ رنجیدہ خاطر جنوبی افریقی ٹیم کیلئے جاری رہا اور 1999ء میں اس کا سیمی فائنل اخراج شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ رہا کیونکہ آسٹریلیا نے انھیں ٹائی میچ نٹ رن ریٹ پر ٹورنمنٹ سے خارج کیا۔
موجودہ ٹیم کی یہ کوشش بھی رہے گی کہ 2003ء ورلڈ کپ کا اپنی سرزمین پر مایوس کن اختتام بھی فراموش کردیا جائے جب بارش سے متعلق ڈکورتھ؍ لوئس قاعدہ کا درست طور پر حساب کرنے میں ناکامی کا نتیجہ ہوا ہے کہ وہ ڈربن میں سری لنکا کے ساتھ ڈرامائی ٹائی کے بعد گروپ مرحلے میں خارج ہوگئے۔ 2011ء میں انھیں نیوزی لینڈ کے مقابل حیران کن کوارٹرفائنل شکست ہوگئی تھی۔ مگر آنے والا کل ایک مختلف دن ہے اور ڈی ولیرس کوشاں ہوں گے کہ جنوبی افریقی کرکٹ کیلنڈر میں نیا صفحہ پلٹائیں جبکہ انھیں اچھی متوازن ٹیم دستیاب ہے۔ انھوں نے آج ایس سی جی میں میڈیا کو بتایا کہ ’’میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ کل ہم یکایک ناکامی والا مظاہرہ پیش کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم اچھا کرکٹ میچ کھیلیں گے اور غالب ہوکر اُبھریں گے۔ سادہ سا معاملہ ہے۔ ‘‘ اِن فام بیٹسمن نے مزید کہا: ’’ہمارا اس معاملے میں انداز کیسا رہے گا؟ ہمارے خیال میں ہمیں بس کوشش اچھا کرکٹ میچ کھیلنے کی کوشش کرنا ہے۔‘‘ ڈی ولیرس نے پول مرحلے میں اسی میدان پر ویسٹ انڈیز کے خلاف سنسنی خیز 162 ناٹ آؤٹ اسکور کئے تھے۔
اگر جنوبی افریقی بیٹنگ میں ہاشم آملہ اور ڈی ولیرس کی طاقت ہے تو بولنگ اسٹرائیک پیس بولر ڈیل اسٹین کی مہارت کے بل بوتے پر آگے بڑھتی ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے اس ناقابل تردید ٹیلنٹ کو ناک آؤٹ مرحلے میں عملی طور پر پیش کرسکتے ہیں ایسا سوال ہے جو پروٹیز کے کئی پرستاروں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ دوسری طرف ایشیائی ٹیم سری لنکا ناک آؤٹ میچوں میں عمدہ ریکارڈ کا حامل ہے۔ موجودہ ورلڈ T20 چمپینس گزشتہ دو ورلڈ کپ فائنلس میں شرکت کرچکے ہیں اور یہ ٹورنمنٹ 1996ء میں جیتے بھی تھے۔ انجیلو میتھیوز زیرقیادت ٹیم بھی بظاہر تمام ضروری عناصر سے لیس معلوم ہوتی ہے تاکہ اس ایڈیشن میں آخر تک کا سفر طئے کیا جاسکے۔ ٹورنمنٹ کے سب سے کامیاب بیٹسمن کمار سنگاکارا (6 میچوں میں 496 رنز ) جو اس میچ سے قبل ریکارڈ متواتر چار او ڈی آئی سنچریاں اسکور کرچکے ہیں، کسی بھی بولنگ لائن اپ میں خوف کا عنصر پیدا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اوپنر تلک رتنے دلشان بھی قابل قدر طاقت ثابت ہوئے ہیں جو اس ٹورنمنٹ میں دو سنچریاں بناچکے ہیں اور سری لنکن بولنگ ہمیشہ ہی اچھی نظر آتی ہے جہاں سدا کے بھروسہ مند لاستھ ملنگا قیادت کررہے ہیں۔